آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 82
روحانی خزائن جلده ۸۲ آئینہ کمالات اسلام شیطان کو ہمیشہ کا قرین اور رفیق اس کا ٹھہرا دیا جو اس کے خون میں بھی سرایت کر جاتا ہے اور دل میں داخل ہو کر ظلمت کی نجاست اس میں چھوڑ دیتا ہے مگر نیکی کی طرف بلانے والا کوئی ایسا رفیق مقرر نہ کیا تا وہ بھی دل میں داخل ہوتا اور خون میں سرایت کرتا اور تا میزان کے دونوں پلے برابر رہتے ۔ مگر اب جب کہ قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہو گیا کہ جیسے بدی کی دعوت کیلئے خدا تعالیٰ نے ہمیشہ کا قرین شیطان کو مقرر کر رکھا ہے۔ ایسا ہی دوسری طرف نیکی کی دعوت کرنے کیلئے روح القدس کو اس رحیم و کریم نے دائمی قرین انسان کا مقرر کر دیا ہے اور نہ صرف اس قدر بلکہ بقا اور لقا کی حالت میں اثر شیطان کا کالعدم ہو جاتا ہے گویا وہ اسلام قبول کر لیتا ہے اور روح القدس کا نور انتہائی درجہ پر چمک اٹھتا ہے تو اُس وقت اس پاک اور اعلیٰ درجہ کی تعلیم پر کون اعتراض ہمارے مخالف آریہ اور برہمو اور عیسائی اپنی کوتاہ بینی کی وجہ سے قرآن کریم کی تعلیم پر یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اس تعلیم کی رو سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے دانستہ انسان کے پیچھے شیطان کو لگا رکھا ہے گویا اس کو آپ ہی خلق اللہ کا گمراہ کرنا منظور ہے مگر یہ ہمارے شتاب باز مخالفوں کی غلطی ہے ان کو معلوم کرنا چاہئے کہ قرآن کریم کی یہ تعلیم نہیں ہے کہ شیطان گمراہ کرنے کیلئے جبر کر سکتا ہے اور نہ یہ تعلیم ہے کہ صرف بدی کی طرف بلانے کیلئے شیطان کو مقرر کر رکھا ہے بلکہ یہ تعلیم ہے کہ آزمائش اور امتحان کی غرض ہیں۔ نو ۔ اس جگہ آزمائش کے لفظ سے کوئی دھوکا نہ کھا دے کہ خدائے عالم الغیب کو امتحان اور آزمائش کی کیا ضرورت ہے کیونکہ بلا شبہ اس کو کوئی ضرورت نہیں لیکن چونکہ اصل مقصد امتحان سے اظہار حقائق مخفیہ ہوتا ہے اس لئے یہ لفظ خدا تعالیٰ کی کتابوں میں پایا جاتا ہے وہ امتحان میں اس لئے نہیں ڈالتا کہ اس کو معلوم نہیں بلکہ اس لئے تا شخص زیر امتحان پر اس کی حقیقت ظاہر کرے کہ اس میں یہ فساد یا صلاحیت ہے اور نیز دوسروں پر بھی اس کا جو ہر کھول دیوے۔ منہ قرآن کریم کی یہ تعلیم نہیں ہے کہ شیطان کسی پر جبر کر سکتا ہے اور نہ یہ تعلیم کہ صرف شیطان ہی انسان کا رفیق مقرر کیا گیا ہے جو بدی کے خیالات دل میں ڈالتا ہے بلکہ انسان کو ملہم خیر اور مہم شر دونوں دئے گئے ہیں۔