آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 81
روحانی خزائن جلد ۵ ΔΙ آئینہ کمالات اسلام یعنی بتوسط اسود وغیرہ عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (۸۱) کوئی تم میں سے ایسا نہیں کہ جس کے ساتھ ایک قرین جن کی نوع میں سے اور ایک قرین فرشتوں میں سے موکل نہ ہو ۔ صحابی نے عرض کی کہ کیا آپ بھی یا رسول اللہ صلحم فرمایا کہ ہاں میں بھی۔ پر خدا نے میرے جن کو میرے تابع کر دیا۔ سودہ بجز خیر اور نیکی کے اور کچھ بھی مجھے نہیں کہتا۔ اس کے اخراج میں مسلم منفرد ہے اس حدیث سے صاف اور کھلے طور پر ثابت ہوتا ہے کہ جیسے ایک داعی شر انسان کیلئے مقرر ہے جو ہمیشہ اس کے ساتھ رہتا ہے ایسا ہی ایک داعی خیر بھی ہر ایک بشر کے لئے موکل ہے جو کبھی اس سے جدا نہیں ہوتا اور ہمیشہ اس کا قرین اور رفیق ہے اگر خدا تعالیٰ فقط ایک داعی الی الشر ہی انسان کے لئے مقرر کرتا اور داعی الی الخیر مقرر نہ کرتا تو خدا تعالی کے عدل اور رحم پر دھبہ لگتا کہ اس نے شرانگیزی اور وسوسہ اندازی کی غرض سے ایسے ضعیف اور کمزور انسان کو فتنہ میں ڈالنے کیلئے کہ جو پہلے ہی نفس امارہ ساتھ رکھتا ہے شیطان ہے ۔ یہ دونوں داعی صرف خیر یا شر کی طرف بلاتے رہتے ہیں مگر کسی بات پر جبر نہیں کرتے جیسا کہ اس آیت کریمہ میں اسی امر کی طرف اشارہ ہے فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقُوبِهَا یعنی خدا بدی کا بھی الہام کرتا ہے اور نیکی کا بھی ۔ بدی کے الہام کا ذریعہ شیطان ہے جو شرارتوں کے خیالات دلوں میں ڈالتا ہے اور نیکی کے الہام کا ذریعہ روح القدس ہے جو پاک خیالات دل میں ڈالتا ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ علت العلل ہے اس لئے یہ دونوں الہام خدا تعالی نے اپنی طرف منسوب کر لئے کیونکہ اسی کی طرف سے یہ سارا انتظام ہے ورنہ شیطان کیا حقیقت رکھتا ہے جو کسی کے دل میں وسوسہ ڈالے اور روح القدس کیا چیز جو کسی کو تقویٰ کی راہوں کی ہدایت کرے۔ الشمس: 9 ہے کہ انسان کو دو قرین عطا کئے گئے ایک داعی خیر اور ایک داعی شر