آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 76
روحانی خزائن جلده ۷۶ آئینہ کمالات اسلام کون نہیں جانتا کہ روح القدس کا نزول نورانیت کا باعث اور اس کا جدا ہو جانا ظلمت اور تاریکی اور بد خیالی اور تفرقہ ایمان کا موجب ہوتا ہے خدا تعالی اسلام کو ایسے مسلمانوں کے شر سے بچاوے جو کلمہ گو کہلا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی حملہ کر رہے ہیں ۔ عیسائی لوگ تو حواریوں کی نسبت بھی یہ اعتقاد نہیں رکھتے کہ کبھی ان سے روح القدس جدا ہوتا تھا بلکہ ان کا تو یہ عقیدہ ہے کہ وہ لوگ روح القدس کا فیض دوسروں کو بھی دیتے تھے ۔ لیکن یہ لوگ مسلمان کہلا کر اور مولوی اور محدث اور شیخ الکل نام رکھا کر پھر جناب ختم المرسلین خیر الاولین والآخرین کی شان میں ایسی ایسی بدگمانی کرتے ہیں اور اس قدر سخت بد زبانی کر کے پھر خاصے مسلمان کے مسلمان اور دوسرے لوگ ان کی نظر میں کا فر ہیں۔ اور اگر یہ سوال ہو کہ قرآن کریم میں اس بات کی کہاں تشریح یا اشارہ ہے کہ روح القدس مقربوں میں ہمیشہ رہتا ہے اور ان سے جدا نہیں ہوتا تو اس کا یہ جواب ہے کہ سارا قرآن کریم ان تصریحات اور اشارات سے بھرا پڑا ہے بلکہ وہ ہر ایک مومن کو روح القدس ملنے کا وعدہ دیتا ہے چنانچہ منجملہ ان آیات کے جو اس بارہ میں کھلے کھلے بیان سے ناطق ہیں ۔ سورۃ الطارق کی پہلی دو آیتیں ہیں اور وہ یہ ہیں وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ وَمَا أَدْرُ بكَ مَا الطَّارِقُ * حاشیه ان آیات کا ترجمہ یہ ہے کہ قسم ہے آسمان کی اور اس کی جو رات کو آنے والا ہے اور تجھے کیا خبر ہے کہ رات کو آنے والی کیا چیز ہے؟ وہ ایک چمکتا ہوا ستارہ ہے۔ اور قسم اس بات کیلئے ہے کہ ایک بھی ایسا جی نہیں کہ جو اس پر نگہبان نہ ہو یعنی ہر یک نفس پر نفوس مخلوقات میں سے ایک فرشتہ موکل ہے جو اس کی نگہبانی کرتا ہے اور ہمیشہ اس کے ساتھ رہتا ہے۔ ل الطارق : ٢-٣ اس بات کا آیات اور احادیث سے ثبوت کہ روح القدس مقربوں میں ہمیشہ رہتا ہے