آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 75
روحانی خزائن جلده ۷۵ آئینہ کمالات اسلام رُوح القدس کے جدا ہونے سے پھر اُن برگزیدوں کو ظلمت گھیر لیتی ہے اور نعوذ باللہ (۷۵) نعم القرین کی جدائی کی وجہ سے بئس القرین کا اثر اُن میں شروع ہو جاتا ہے اب ذرہ خوف الہی کو اپنے دل میں جگہ دے کر سوچنا چاہئے کہ کیا یہی ادب اور یہی ایمان اور عرفان ہے اور یہی محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم القدس جدا ہو جاتا تھا نہایت درجہ کی توہین تم کی نسبت یہ اعتقاد رکھنا کہ آپ سے اکثر اوقات ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اس نقص اور تنزل کی حالت کو روا رکھا جائے کہ گویا روح القدس آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم سے مدتوں تک علیحدہ ہو جاتا تھا اور نعوذ باللہ ان مدتوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انوار قدسیہ سے جو روح القدس کا پر توہ ہے محروم دی ہوتے تھے غضب کی بات ہے کہ عیسائی لوگ تو حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت یقینی اور قطعی طور پر یہ اعتقاد رکھیں جو کہ روح القدس جب سے حضرت مسیح پر نازل ہوا بھی ان سے جدا نہیں ہوا اور وہ ہمیشہ اور ہر دم روح القدس سے تائید یافتہ تھے یہاں تک کہ خواب میں بھی ان سے روح القدس جدا نہیں ہوتا تھا اور ان کا روح القدس کبھی آسمان پر ان کو اکیلا اور مہجور چھوڑ کر نہیں گیا اور نہ روح القدس کی روشنی ایک دم کیلئے بھی کبھی ان سے جدا ہوئی لیکن مسلمانوں کا یہ اعتقاد ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روح القدس آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا بھی ہو جاتا تھا اور اپنے دشمنوں کے سامنے بصراحت تمام یہ اقرار کریں کہ رُوح القدس کی دائی رفاقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عیسی کی طرح نصیب نہیں ہوئی۔ اب سوچو کہ اس سے زیادہ تر اور کیا بے ادبی اور گستاخی ہوگی کہ آنحضرت صلعم کی صریح تو ہین کی جاتی ہے اور عیسائیوں کو اعتراض کرنے کیلئے موقع دیا جاتا ہے اس بات کو ا نوٹ ۔ حضرت مسیح کی نسبت مسلمانوں کا بھی یہی اعتقاد ہے دیکھو تفسیر ابن جریر و ابن کثیر و معالم وفتح البیان و کشاف و تفسیر کبیر حسینی و غیره بموقع تفسیر آیت وايد نه برُوحِ الْقُدُسِ افسوس افسوس افسوس _ منه البقرة: ٨٨