احمدی اور غیراحمدی میں کیا فرق ہے؟

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 547 of 597

احمدی اور غیراحمدی میں کیا فرق ہے؟ — Page 547

مسیح دو زرد چادروں میں اترے گا اس سے مراد دو بیماریاں ایک سر کی بیماری اور دوسری کثرت پیشاب اور دست ۴۶ خدا نے اپنی وحی میں اول میرا نام مریم رکھا ۱۷۶ مریمی مقام سے منتقل کر کے میرا نام عیسیٰ رکھا گیا اور اس طرح پر ابن مریم مجھے ٹھہرایا گیا تا سورۃ تحریم میں جو وعدہ کیاگیا وہ پورا ہو ۱۸۷ براہین احمدیہ میں خدا تعالیٰ نے میرا نام مریم رکھا اور پھر نفخ روح کا ذکر کیا اور پھر آخر میں میرا نام عیسیٰ رکھ دیا ۲۲ میں خدا کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ میری وحی اور الہام میں حضرت عیسیٰ سے بڑھ کر ایسے کلمات ہیں جن سے خدائی ثابت ہوسکتی ہے ۲۳۶ ہمارے دعویٰ کی جڑھ حضرت عیسیٰ کی وفات ہے۔اس جڑھ کو خدااپنے ہاتھ سے پانی دیتا ہے اور رسول اس کی حفاظت کرتا ہے ۲۴۶ حضرت عیسیٰ سے آپ کی مشابہتیں ۳۱‘۲۱۵ آنحضرت ؐ کے آخری زمانہ میں مسیح ابن مریم کے رنگ اور صفت میں مجھے مبعوث فرمایا ۲۱۳ مجھے کتاب اللہ میں ذوالقرنین کانام دیاگیا ہے۔میں نے ہر لحاظ سے دو صدیاں پائی ہیں ۱۲۴،۱۲۵‘۱۹۹ میں کرشن سے محبت کرتا ہوں کیونکہ میں اس کا مظہر ہوں ۲۲۹ خدا نے مجھے کئی دفعہ بتلایا ہے کہ تو ہندؤوں کیلئے کرشن اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح موعود ہے ۲۲۸ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں دلائل ۲۳۷ قرآن شریف میں میرے مسیح ہونے کے بارے میں کافی ثبوت ہے ۱۹۴ میری سچائی پر ایک دلیل ہے کہ میں نبیوں کے مقرر کردہ ہزار میں ظاہر ہواہوں ۲۰۹ آپکی نبوت پر دلیل کہ نبیوں نے مسیح موعود کیلئے پیشگوئی کی تھی کہ چھٹا ہزار ختم ہونے کو ہوگا تو وہ مسیح موعود ظاہر ہوگا ۱۹۴،۱۹۵ میری صداقت کی ایک دلیل یہ کہ گوشہ تنہائی کے زمانہ میں خدا نے مجھے مخاطب کرکے چند پیشگوئیاں فرمائیں جو براہین احمدیہ میں چھپ کرتمام ملک میں شائع ہوگئیں ۱۸۹ مجھے اللہ کی طرف سے نصرت دی جائیگی اور یہی میرے نزول کی حقیقت ہے اور ملائکہ کے ذریعہ میں غالب آؤں گا ۸۲،۸۳ آپ کے زمانہ کے لئے کی گئی پیشگوئیاں اور علامات پوری ہوگئی ہیں ۱۸۳،۱۸۴ کون تم میں سے ہے جو میری سوانح زندگی میں کوئی نکتہ چینی کرسکتا ہے پس یہ خدا کا فضل ہے کہ جو اس نے ابتدا سے مجھے تقویٰ پر قائم رکھا ۶۴ آپ کے دعویٰ نبوت کی ایک دلیل ضرورت زمانہ ۱۹۴ میں اللہ کے فضل سے اس کے اولیاء میں سے ہوں اور میں تمہارے پاس آیات بینات کے ساتھ آیا ہوں ۱۱۹ میرا دعویٰ منجانب اللہ ہونے کا تئیس برس سے بھی زیادہ کا ہے ۶۴ میری عمر ۶۷ سال کی ہے اور میری بعثت کا زمانہ ۲۳سال سے بڑھ گیا ہے اگر میں ایسا ہی مفتری اورکذاب تھا تو اللہ تعالیٰ اس معاملہ کو اتنا لمبا نہ ہونے دیتا(لیکچر لدھیانہ) ۲۹۳ وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا یقینی اور قطعی ہے ۴۱۲ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں اپنے خدائے پاک کے یقینی اور قطعی مکالمہ سے مشرف ہوں اور قریباً ہر روز مشرف ہوتا ہوں ۳۵۳ وہ خدا کی وحی جو میرے پرنازل ہوتی ایسی یقینی اور قطعی ہے کہ جس کے ذریعہ میں نے اپنے خدا کو پایا ۴ میری بعثت کی دو غرضیں ہیں (۱)اسلام کا دوسرے مذاہب پر غلبہ (۲) مسلمانوں میں اسلام کی حقیقت اور روح پیدا کی جاوے ۲۹۳تا ۲۹۵ آمد کا مقصد تجدید دین و اصلاح دنیا ۳ اس صدی کے سرپر جو خدا کی طرف سے تجدید دین کے لئے آنے والا تھا وہ میں ہی ہوں ۳