احمدی اور غیراحمدی میں کیا فرق ہے؟ — Page 498
۔وہ دلبر محض باتوں سے خوش نہیں ہوتا جب تک تو موت قبول نہیں کرے گا زندگی ملنی محال ہے۔اے بدخصلت انسان تکبر اور دشمنی کو چھوڑ تا کہ تجھ پر خدائے ذوالجلال کا نور پڑے۔تو اتنا اونچااونچا کیوں اڑتا ہے؟ شاید کہ تو اُس بے مثل ذات کا منکر ہے؟۔دنیا کے محل کی کیا (مضبوط) بنیاد تو نے دیکھ لی کہ تجھے یہ سرائے فانی اچھی لگنے لگی۔عقلمند اس میں دل کیوں لگائے جبکہ یکدم کسی روز اس سے باہر نکل جانا پڑے گا۔دنیا کی خاطر خدا سے قطع تعلق کر لینا بس یہی بدبختوں کی نشانی ہے۔جب کسی پر خدا کی مہربانی ہوتی ہے تو پھر اُس کا دل دنیا میں نہیں لگتا۔اُس کو تپتا ہوا صحرا پسند آتا ہے تا کہ وہاں اپنے محبوب کے حضور میں گریہ وزاری کرے۔عارف انسان تو مرنے سے پہلے ہی مر جاتا ہے کیونکہ دنیا کی بنیاد مضبوط نہیں ہے۔خبردار ہو کہ یہ مقام فانی ہے، باخدا ہو جاکیونکہ آخر خدا ہی سے واسطہ پڑنا ہے صفحہ ۶۲۔اگر تو خود ہی مہلک زہر کھا لے تو میں کیونکر خیال کروں کہ تو عقل مند ہے۔دیکھ کہ اُس پاک انسان عبداللطیف نے کس طرح سے خدا کے لئے اپنے تئیں فنا کر دیا۔اُس نے وفاداری کے ساتھ اپنی جان اپنے محبوب کو دے دی اور اب تک وہ پتھروں کے نیچے دبا پڑا ہے۔راہ صدق ووفا کا یہی طور وطریق ہے اور یہی مردانِ خدا کا آخری درجہ ہے۔اُس زندہ خدا کی خاطرانہوں نے اپنی خودی کو فنا کر دیا اور الٰہی طریقہ پر جاں نثار کرنے والے بن گئے۔ننگ وناموس اور جاہ وعزت سے لاپرواہ ہو گئے دل ہاتھ سے جاتا رہا اور ٹوپی سر سے گر پڑی۔خودی سے دور اور یار سے وابستہ ہو گئے کسی (حسین) چہرہ کے لئے عزت قربان کر دی۔اُن کا ذکر بھی خدا کی یاد دلاتا ہے وہ خدا کی بارگاہ میں وفادار ہیں۔اگر تو تلاش کرتا ہے تو یاد رکھ کہ ایمان ایسا ہوا کرتا ہے تلاش کرنے والوں کے لئے یہ کام آسان ہو جاتا ہے۔لیکن تو دنیا کی محبت میں گرفتار ہے جب تک نہ مرے گا اس جھگڑے سے کس طرح نجات پائے گا۔اے دنیا پرست کتے جب تک تجھ پر موت نہ آئے گی تب تک اس یار کا دامن کس طرح ہاتھ آئے گا