رسالہ درود شریف — Page 45
رساله درود شریف آخر از عجز و مناجات و تضرع کردنش شد نگاه لطف حق بر عالم تاریک و تار عظ در جهان از معصیت ها بود طوفان بود خلق از شرک و عصیاں کور و کر در هر دیار ہر فسار ہمچو وقت نوح دنیا بود از هیچ دل خالی نبود از ظلمت و گرد و غبار مر شیاطین را تسلط بود بر هر روح ونفس پس تجملی کرد پر روح محمد کردگار او بر ہمہ سرخ و سیا ہے ثابت است آنکه بهر نوع انسان کرد جان خود شار (۲۵) آخر کار اس کی عاجزی اور آہ وزاری اور دعاؤں سے خدا تعالیٰ نے اپنی مہربانی کی نگاہ اندھیری دنیا پر ڈالی۔(۲۶) دنیا میں گناہوں کا بہت بڑا طوفان آیا ہوا تھا۔ہر ملک کے لوگ خدا تعالی کی نافرمانی اور شرک کی وجہ سے اندھے اور بہرے ہو رہے تھے۔(۲۷) نوح کے زمانہ کی طرح دنیا ہر ایک خرابی سے بھری ہوئی تھی۔کوئی دل بھی تاریکی اور گردو غبار سے خالی نہ تھا۔(۲۸) ہر ایک روح اور جان پر شیطانوں کا ہی قابو تھا۔ایسے حال میں خدا تعالٰی نے محمد کی روح پر اپنی تجلی کی۔(۲۹) دنیا کے تمام لوگوں پر اس کا احسان ثابت ہے۔اس نے انسان کے لئے اپنی جان قربان کر دی۔<1 یا نبی اللہ توئی خورشید رہ ہائے ہدی ہے تو نارد ر ساله درود شریف رو برا ہے عارف پرہیز گار یا نبی اللہ لب تو چشمه جان پرور است یا نبی اللہ توئی در راه حق آموزگار آں یکے جوید حدیث پاک تو از زید و عمرو وان دگر از خود دہانت بشنود بے انتظار زنده آن شخصی که نوشد جرعه از چشمه ات زیرک آن مردیکه کرد است اتباعت اختیار عارفان را منتہائے معرفت علم رخت صادقان را منتہائے صدق بر عشقت قرار (۳۰) اے اللہ کے نبی تو ہی ہدایتوں کی راہوں کا سورج ہے۔تیرے بغیر کوئی بھی عارف اور پر ہیز گار رستہ نہیں پا سکتا۔(۳۱) اے اللہ کے نبی تیری باتیں جان بخشنے والا چشمہ ہے۔اے اللہ کے نبی خدا کی راہ کا تو ہی دکھانے والا ہے۔(۳۲) ایک وہ شخص ہے جو تیری باتیں زید اور عمرو کے پاس سے ڈھونڈتا ہے۔ایک وہ شخص ہے جو بغیر انتظار کے تیرے منہ سے خود سنتا ہے۔(۳۳) وہی آدمی زندہ ہے جو تیرے چشمہ سے پانی پیتا ہے۔وہی آدمی عقلمند ہے جس نے تیری اتباع اختیار کی ہے۔(۳۴) عارفوں کی معرفت کا انتہا تیرے حسن کا علم ہے۔بچوں کی سچائی کا کمال تیرے عشق پر استقامت ہے۔