رسالہ درود شریف — Page 44
رساله ورود روح او در گفتن قول بلی اول کسے آدم توحید و پیش از آدمش پیوند یار جان خود دادن ہے خلق خدا در فطرتش جاں نثار خستہ جاناں بیدلان را غمگسار اندر آن وقتیکہ دنیا پر ز شرک و کفر بود هیچ کس را خون شد دل جز دل آں شہریار هیچ کس از خبث شرک و رجس بت آگه شد ایس خبر شد جان احمد را که بود از عشق زار کس چه میداند کرا زاں ناله ها باشد خبر شفیع کرد از بهر جہاں در کاں کنج غار (۱۵) "بلی" کا لفظ کہنے میں اس کی روح سب سے پہلے تھی۔وہ توحید کا آدم ہے اور آدم ( کی پیدائش) سے بھی پہلے اس کا تعلق خدا تعالیٰ سے ہے۔(۱۷) خدا کی مخلوق کے لئے اپنی جان دینا اس کی فطرت میں تھا وہ شکستہ دلوں پر اپنی جان قربان کرنے والا اور بیدلوں کا غمخوار تھا۔(ن) اس وقت جب کہ دنیا شرک اور کفر سے بھری ہوئی تھی۔اس سرور عالم کے دل کے سوا اور کسی کا دل رنج اور غم سے پکھل کر خون نہ ہوا۔(۱۸) کوئی شخص بھی شرک کی ناپاکی اور بت پرستی) کی پلیدی سے واقف نہ ہوا۔اس بات کا صرف احمد کو پتہ لگا جو عشق سے نڈھال تھا۔(19) کسی کو اس آہ وزاری کی کیا خبر اور کیا علم جو اس شفیع الوری نے لوگوں کے لئے غار حرا کے گوشہ میں کی۔۶۹ رساله درود شریف من نمیدانم چه دردی بود و اندوه وغمے کاندر آن غاری در آوردش حزین و دلفگار نے ز تاریکی توحش نے ز تنہائی ہراس نے ز مردن غم نہ خوف کردم و نے بیم مار کشتہ قوم و فدائے خلق و قربان جہاں نے کسم خویش میلش نے بنفس خویش کار نعرہ ہا پر درد مے زد از پئے خلق خدا شد تضرع کار او پیش خدا لیل و نهار سخت شوری بر فلک افتاد زاں عجز و دعا قدسیاں را نیز شد چشم از غم آں اشکبار (۲۰) میں نہیں جانتا کہ وہ کیسا درد اور دکھ اور غم تھا جو اس کو اس غار میں غمگین اور دلفگار بنا کر لایا۔(۲۱) نہ تاریکی کی وجہ سے کچھ گھبراہٹ ہوئی نہ تنہائی کی وجہ سے کچھ ڈر پیدا ہوا۔نہ جان کے خطرہ کی کوئی پروا کی اور نہ سانپ یا بچھو کا خوف کیا۔(۲۲) غم مخلوق کا کشتہ ملک پر خدا اور خلق خدا پر قربان، نہ اسے اپنے جسم کا خیال تھا نہ اپنی جان کی پروا تھی۔(۲۳) خدا کی مخلوق کے لئے درد سے بھرے نعرے مارتا تھا۔خدا کے آگے رات دن گڑ گڑانا اس کا کام تھا۔(۲۴) اس عاجزی اور دعاؤں سے آسمان پر سخت شور پڑ گیا۔اس کے غم سے فرشتے بھی رونے لگے۔