رسالہ درود شریف — Page 21
رساله و رود شریف ۳۲ آنحضرت م کی عظمت شان کے متعلق بعض آیات قرآن کریم (!) وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (بقرہ:۳۱) اے رسول (یاد کرو) جب تمہارے رب نے (تمہاری ربوبیت کے سلسلہ میں فرشتوں سے کہا کہ میں زمین پر ایک نائب پیدا کر نیوالا ہوں (یعنی آدم کی خلافت بعثت محمدیہ کے لئے محض بطور تمہید تھی) (۲) قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ۖ قُلْ أَطِيعُوا الله وَالرَّسُولَ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللهَ لا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ (آل عمران (٣٢) (اے پیغمبر! لوگوں سے) کہدو - کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو۔تو میری پیروی کرو۔(ایسا کرو گے) تو (خود) وہ تم سے محبت کرے گا۔اور تمہاری تقصیریں معاف اور کمزوریاں دور کر دے گا اور اللہ بہت ہی بخشنے والا (اور) نہایت رحم کرنے والا ہے تم (انہیں) کہو۔کہ اللہ کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو۔پس اگر وہ روگردان ہو جائیں۔تو (یاد رکھیں کہ اللہ کافروں سے محبت نہیں رکھتا۔۲۳ رساله درود شریف وَإِذْ اَخَذَ اللهُ مِيْفَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا أَتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتب وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَ كُمْ رَسُولُ تُصَدِّقَ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِه وَلْتَنْصُرُنَّهُ (آل عمران:۸۴) اور (یاد کرو) جب اللہ نے تمام انبیاء سے عہد لیا۔کہ میں نے تمہیں جو بھی کتاب اور حکمت دی ہو وہ خواہ کتنی ہی عظیم الشان کیوں نہ ہو) اس کے بعد تمہارے پاس (یا تمہارے پیروؤں کے پاس) جو ایسا رسول آئے۔کہ وہ (میرے) اس (کلام کے وعدوں) کو (پورا کر کے اسے) سچا ثابت کرنیوالا ہو۔جو تمہارے پاس ہو تو تمہارے لئے (اور تمہارے پیروؤں کے لئے) اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا لازم اور ضروری ہو گا۔(۴) فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ (آل عمران (١٢) اس عظیم الشان رحمت کی وجہ سے جو ( تمہیں) اللہ کی طرف سے (عطا ہوئی) ہے۔تم ان کے لئے نرم دل واقع ہوئے ہو۔(۵) فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا يَوْمَئِذٍ يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَعَصَوا الرَّسُولَ لَوْ تُسَوَّى بِهِمُ الْأَرْضُ وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا (النساء : ٢٢) ب ہم ہر ایک قوم میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے۔اور ان (تمام) پر تمہیں گواہ ٹھہرائیں گے اس وقت ان کی کیا حالت ہو گی۔اس روز اس رسول کے منکر اور نافرمان لوگ تمنا کریں گے۔کہ کاش ہمیں زمین سے قرآن شریف فرماتا ہے کہ ہر ایک امت سے بذریعہ ان کے نبی کے یہ عہد لیا گیا تھا۔(حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۷۸)