رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 20 of 169

رسالہ درود شریف — Page 20

رساله درود شریف اور شکر گزاری کے حقیقی طریقے یہی دونوں ہیں لینی محسن کی مدح وثنا اور محسن کے لئے دعا۔جیسا کہ حدیث میں آتا ہے:۔عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَتَاهُ الْمُهَاجِرُونَ - فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ مَا رَأَيْنَا قَوْمًا أَبْذَلَ مِنْ كَثِيرِ وَلَا أَحْسَنَ مُوَاسَاةٌ مِّنْ قَلِيْلٍ مِّنْ قَوْمٍ نَزَلْنَا بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ لَقَدْ كَفَوْنَا الْمَؤْنَةٌ وَاشْرَكُونَا فِي الْمَهُنَا - حَتَّى لَقَدْ خِفْنَا أَنْ يَذْهَبُوا بِالْأَجْرِ كُلِهِ - فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا مَا دَعَوْتُم الله لَهُمْ وَالْتُمْ عَلَيْهِمْ (جامع ترمذی ابواب الزهد) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔کہ جن ایام میں آنحضرت اما مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تھے۔انہی ایام میں ایک دفعہ مہاجرین نے آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ جن لوگوں کے پاس ہم آکر اترے ہیں۔ان سے بڑھکر کوئی فراخ دل اور ہمدردی کرنے والا ہم نے نہیں دیکھا۔جس کے پاس مالی وسعت تھی۔اس نے اپنے کثیر مال کو ہمارے لئے وقف کر دیا ہے۔اور جو وسعت نہیں رکھتا اس نے دوسرے رنگ میں کمال درجہ کی ہمدردی سے کام لیا ہے۔محنت خود کرتے ہیں۔اور اپنے سامان معیشت میں ہمیں بھی برابر کے حصہ دار بناتے ہیں۔ہمیں تو اندیشہ ہے کہ سارے کا سارا اجر وہی نہ لے جائیں۔اور ہم کہیں محروم ہی نہ رہ جائیں۔حضور نے اس کے جواب میں فرمایا۔کہ جبتک تم ان کے لئے اللہ تعالٰی کی جناب میں دعائیں اور ان کی مدح و ثناء کرتے رہو گے اس وقت تک ایسا نہیں ہو گا۔(بلکہ تم بھی ویسا ہی اجر پاؤ گے) اس کے علاوہ آیت: ۲۱ رساله درود شریف إِنَّا اَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَيِّرًا وَنَذِيرًا لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَاصِيْلاً (فتح۔۔۔ترجمہ: (اے نبی) ہم نے تمہیں اپنی ہستی کا اور اپنی باتوں کام گواہ، رحمتوں کی بشارت دینے والا اور (عذاب سے آگاہ کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔تاکہ (اے لوگو) تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔اور اس (رسول) کی مدد کرو۔اور اس کی تعظیم کرو۔اور صبح و شام اس کی (یعنی اللہ تعالیٰ کی ہی تسبیح کرو۔کی رو سے بھی ہر مومن کے لئے آنحضرت مال کے محامد کو پھیلانا اور آپ کی مدح وثناء اور عظمت شان کا اظہار کرنا اسی طرح ضروری ہے۔جیسا کہ آپ پر درود بھیجنا ضروری ہے۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلَّمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ پس اس بنا پر درود شریف کے مضمون کو شروع کرنے سے قبل قرآن کریم میں سے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وحی اور منظوم کلام میں سے کسی قدر آنحضرت مالیم کے محامد بیان کئے جاتے ہیں۔اور حقیقت یہ ہے۔کہ آنحضرت میا کے محامد اور عظمت شان کو خدا تعالیٰ ہی بہتر بیان کر سکتا ہے۔اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جن کو اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے بھیجا ہے۔اللّهُمَّ صَلَّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ وَ عَلَى عَبْدِكَ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ وَبَارِكَ وَسَلَّم اس ضمیر کا مرجع بھی آنحضرت امال ہو سکتے ہیں۔(خاکسار مرتب)