رسالہ درود شریف — Page 146
رساله درود شریف درود کی حقیقت ۲۷۲ ورود دراصل اس احسان کا اقرار ہے کہ جو آنحضرت میا نے ہم پر کیا۔اور احسان کا اقرار انسان کے لئے از حد ضروری ہے۔کبھی کسی شخص کے اعمال میں پاکیزگی نہیں پیدا ہو سکتی۔جب تک وہ اپنے احسان کرنے والے کا احسان مند نہیں ہوتا۔کیونکہ اتمام صفائی اعمال میں احسان مندی سے بیج بڑھتا بڑھتا ان کو منافق بنا گیا۔درود میں کیا دعا کی جاتی ہے ۲۷۳ رساله درود شریف پس رسول اللہ مین ایم کے احسانوں کو یاد کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کے حضور میں کہنا چاہئے۔کہ ہم تو ان کا کچھ بدلہ نہیں دے سکتے۔تو ہی ان کا عوض رسول کریم میر کو دے۔اور اس کا اجر آپ کو عطا فرما۔یہی درود ہی پیدا ہوتی ہے۔اس لئے ہمارے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم کثرت کا مطلب ہے۔پس چاہئے کہ اس کی کثرت اختیار کی جائے۔اور اس کے ذریعہ سے اپنی احسان مندی کو بہترین صورت میں ظاہر کیا جائے۔“ سے درود پڑھیں۔تاکہ ہم آنحضرت امی کے احسانوں کے لئے آپ کے احسان مند ہوں۔اور پھر ہمارے اعمال میں بھی پاکیزگی اور صفائی پیدا ہو۔ناشکری کے بد نتائج جو شخص اپنے محسن کا احسان مند نہیں ہوتا وہ فتنہ وفساد کا بیج ہوتا ہے کیونکہ نا احسانمندی اور ناشکر گزاری ہمیشہ فساد اور جھگڑا پیدا کرتی ہے۔غور کر کے دیکھ لو۔جتنی لڑائیاں اور جھگڑے پیدا ہوتے ہیں وہ نا احسان مندی سے ہی ہوتے ہیں۔پس ہمیں احسان فراموش نہیں بننا چاہئے۔آنحضرت کے بیشمار احسان ہم پر ہیں۔ہمیں ان کو یاد رکھنا چاہئے اور ان کا اقرار کرتے رہنا چاہئے۔آنحضرت میاں جب مدینہ تشریف لے گئے تو درود پڑھنے میں اپنا فائدہ پھر یہی نہیں کہ درود میں صرف احسان کا اقرار یا شکریہ ہی ہے بلکہ اس میں ہمارا بھی فائدہ ہے۔اور اس فائدے کو اگر الگ بھی کر دیا جائے جو اقرار احسان سے حاصل ہوتا ہے تو بھی درود ہمارے فائدے کی چیز ہے۔کیا ہم درود میں یہ نہیں کہتے کہ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ۔پھر کیا ہم خود آل میں شامل نہیں۔یقینا ہم بھی آل میں شامل ہیں۔اور اس صورت میں درود نہ صرف آنحضرت میم کے احسانوں کا اقرار ہے۔بلکہ اپنے لئے بھی ایک دعا ہے۔مدینہ کے بعض لوگوں نے اس سے برا منایا۔حالانکہ آپ کے بہت سے تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے احسان ان پر تھے مگر ان لوگوں نے ناشکری کی۔اور طعن وغیرہ کرنے شروع کر دئیے۔اگر چہ بعض ان میں دبی زبان سے کرتے تھے۔مگر ایسے لوگوں نے بھی آپ کے احسانوں کی ناشکری ضرور کی۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ ناشکری کا پھر ہم درود میں اور دعاؤں میں رسول کریم میں اللہ کے لئے یہ دعا تو نہیں کرتے کہ یا الہی تو ان کو جائداد دے۔باغ دے۔زمین دے۔مکان دے۔