رسالہ درود شریف — Page 118
رساله درود شریف تھے۔جو یہ ہے:۔M14 التَّحِيَّاتُ لِلّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ السّلامُ عَلَيْنَا وَعَلى عِبَادِ اللَّهِ الصَّلِحِينَ - اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ - اَللّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اَللّهُمَّ صَلِّ عَلَيْنَا مَعَهُمُ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى الِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَيْنَا مَعَهُمْ صَلَوَاتُ اللهِ وَصَلَوَاتُ الْمُؤْمِنِينَ عَلى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه۔(ترجمہ) تمام قولی عبادتیں اور بدنی عبادتیں اور تمام مالی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔اے نبی! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکات ہوں۔ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔میں شہادت دیتا ۲۱۷ ر ساله درود شریف ہم پر بھی برکات نازل فرما۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور تمام مومنوں کی طرف سے اس امی نبی حضرت محمد رسول اللہ مال پر بے شمار درود ہوں۔تم سب پر سلام اللہ کی رحمت اور اس کی برکات ہوں۔اور ایک حدیث میں ہے:۔(۳۶) عن بُرَيْدَةَ بْنِ الْحُصَيْبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بُرَيْدَةُ إِذَا جَلَسْتَ فِي صَلوتِكَ فَلا تَترُكن التَّشَهدَ وَ الصَّلوةَ عَلَيَّ فَإِنَّهَا زَكَوة الصَّلوة وَسَلّمْ عَلى جَمِيعِ أَنْبِيَاءِ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَسَلَّمْ عَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ترجمہ۔حضرت بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت میں ایم کیو ایم نے مجھے فرمایا۔اے بریدہ جب تم نماز میں قعدہ کا رکن ادا کرنے کے لئے بیٹھو۔تو تشہد میں اور مجھ پر درود بھیجنے میں کو تاہی نہ کرنا کیونکہ یہ نماز کی تکمیل اور درستی کا ذریعہ ہے۔اور (ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء ورسل پر اور اللہ کے تمام صالح بندوں پر بھی سلام بھیجا کرو۔ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی پرستش کے لائق نہیں۔اور میں یہ بھی شہادت تشہد کے بعد درود شریف کے واجب ہونے کے متعلق اختلاف دیتا ہوں۔کہ محمد اس کا بندہ اور اس کا رسول ہے۔اے اللہ حضرت محمد رسول اللہ مال پر اور آپ کے اہل بیت پر درود بھیج۔جیسا کہ تو نے حضرت ابراہیم پر درود بھیجا۔تو بہت ہی حمد والا اور بزرگی والا ہے۔اے اللہ ان کے ساتھ ہم پر بھی درود بھیج۔اے اللہ حضرت محمد رسول الله ما پر اور آپ کے اہل بیت پر برکات بھیج۔جیسا کہ تو نے حضرت ابراہیم کی آل پر برکات بھیجیں۔تو بہت ہی حمد والا اور بزرگی والا ہے۔اے اللہ ان کے ساتھ ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز میں اور خصوصاً تشہد میں آنحضرت مسلم پر درود بھیجنا اشد ضروری ہے جس کے بغیر نماز قابل پذیرائی نہیں ہوتی۔اور اسی بناء پر امام شافعی اور اسحاق کہتے ہیں کہ نماز میں درود شریف کا پڑھنا واجب اور لازم ہے جس کے بغیر نماز درست اور معتبر نہیں ہوتی۔اور امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ کا آخری قول بھی یہی