رسالہ درود شریف — Page 114
رساله درود شریف ۲۰۸ ۲۰۹ رساله درود شریف جائیں گی۔کیونکہ ان تکالیف کے پیدا کرنے سے اصل مقصد یہی تھا کہ وہ قبولیت دعا کے خاص مواقع پر آنحضرت پر درود بھیجنے کا ارشاد خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرے۔اور اس کی جناب میں گڑ گڑائے۔جیسا کہ (۳) عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ الله تعالیٰ فرماتا ہے اَخَذْنَاهُم بِالْبَاسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يُتَضَرَّعُونَ (انعام (۴۳) یعنی یہ ہماری قدیم سے سنت ہے کہ جو لوگ خدا فِيهِ خُلِقَ ادَمُ وَ فِيْهِ قُبِضَ وَفِيهِ التَّفْعَةُ وَفِيهِ الصَّعَقَةُ تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں کرتے انہیں ہم اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے فَاكْفِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلوةِ فِيْهِ فَإِنَّ صَلوتَكُمْ مَعْرُوْضَةٌ ان پر تنگی اور تکالیف بھیجدیتے ہیں۔اور فرماتا ہے اَخَذْنَا أَهْلَهَا عَلَى قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلوبَنَا بِالْبَاسَاءِ وَالضَّرَاءِ لَعَلَّهُمْ يَضُرَّعُونَ (اعراف : ۹۵) یعنی لوگوں کو عَلَيْكَ وَ قَدْ اَرِمْتَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ ہم اس لئے تنگی اور تکلیف میں مبتلا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے حضور گریہ أجْسَادَ الأنبياء (سنن ابي داؤد - ابواب الجمعہ) وزاری کے ساتھ رجوع کریں وَلَقَدْ اَخَذْنَاهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا ترجمہ۔حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اشتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ (مومنون: ») ہم نے ان پر آنحضرت امام نے فرمایا۔تمہارے بہترین ایام میں سے جمعہ کا دن بھی عذاب بھیجا۔مگر انہوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا۔اور اپنے رب کے ہے۔اسی روز آدم پیدا ہوئے تھے۔اسی روز ان کی وفات ہوئی۔اسی روز حضور تضرع نہ کیا۔نہ خاکساری کے ساتھ اس کے حضور میں گرے۔(قیامت کے اہوال اور اشراط ظہور میں آئیں گے اور) نفخ صور ہو گا۔اور پس جب انسان خدا تعالیٰ کی طرف بچے طور پر رجوع کرتا ہے اور وہ بھی کسی اسی روز وہ تجلی اور ظہور جلال الہی ہو گا۔جس سے لوگ بے ہوش ہو جائیں ذاتی لالچ سے نہیں۔بلکہ اپنے مقاصد کو آنحضرت امی کے مقاصد پر قربان کر گے۔پس اس روز تم مجھ پر خاص طور پر کثرت سے درود بھیجا کرو۔تمہارا کے اور آپ کے رفع درجات اور آپ کی کامیابی کے لئے دعاؤں کی صورت میں رجوع کرتا ہے تو اس کا یہ قطعی نتیجہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی ضرورتوں کو بھی درود مجھے پہنچایا جائے گا۔اوس کہتے ہیں کہ اس پر صحابہ نے عرض کیا کہ جب آپ کا وجود بوسیدہ ہو چکا ہو گا تو اس وقت ہمارا درود آپ کو کیسے پہنچایا جائے جو حقیقی ضرورتیں ہوں پورا کر دیتا ہے اور اسے تمام تکالیف سے نجات بخشتا ہے گا۔فرمایا۔اللہ تعالٰی نے انبیاء کے وجودوں کو وہ حرمت اور کرامت بخشی اور اگر کوئی شخص اس طور پر نہیں بلکہ آیت وَأتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا ہے کہ زمین انہیں فنا نہیں کر سکتی۔کے خلاف اپنے مقاصد کو آنحضرت مالی تعلیم کے مقاصد پر مقدم کرے گا۔تو وہ ایک غلط راستے کو اختیار کرنے والا ہو گا۔(اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمُغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ اس حدیث میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ انسان کو دعا کے لئے جو افضل اور بہتر موقع میسر آئے اس میں اسے آنحضرت می پر درود بھیجنے کو مقدم کرنا