عہدیدارانِ جماعت کی ذمہ داریاں — Page 13
عاجزی کا اظہار کرتے ہیں۔لوگوں سے بھی صحیح طریق سے مل رہے ہوتے ہیں۔لیکن جب کسی کا اپنے ماتحت یا عام آدمی سے اختلاف رائے ہو جائے تو فوراً ان کی افسرانہ رگ جاگ جاتی ہے اور بڑے عہدیدار ہونے کا زعم اپنے ماتحت کے ساتھ متکبرانہ رویے کا اظہار کروا دیتا ہے۔پس عاجزی یہ نہیں کہ جب تک کوئی جی حضوری کرتا رہے، کسی نے اختلاف نہیں کیا تو اس وقت تک عاجزی کا اظہار ہو۔یہ بناوٹی عاجزی ہے۔اصل حقیقت اس وقت کھلتی ہے جب اختلاف رائے ہو یا ماتحت مرضی کے خلاف بات کر دے تو پھر انصاف پر قائم رہتے ہوئے اس رائے کا اچھی طرح جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے۔پس اس عاجزی کے ساتھ بلند حوصلگی کا بھی اظہار ہو گا اور جب یہ ہو گا تو یہ عاجزی حقیقی عاجزی کہلائے گی۔ہمیشہ عہد یدار کو اللہ تعالیٰ کا یہ حکم سامنے رکھنا چاہئے کہ وَلَا تُصَعِرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا (لقمان: 19) اور اپنے گال لوگوں کے سامنے غصہ سے مت پھلاؤ۔( اپنا منہ نہ پھلاؤ غصہ سے ) اور زمین میں تکبر سے مت چلو۔اختلاف رائے کی میں نے بات کی ہے تو اس بارے میں یہ بھی بتادوں کہ قواعد بیشک امیر جماعت کو یہ اجازت دیتے ہیں کہ بعض دفعہ وہ عاملہ کی رائے کو رڈ کر کے اپنی رائے کے مطابق فیصلہ کرے لیکن ہمیشہ یہ کوشش کرنی چاہئے کہ سب کو ساتھ لے کر چلا جائے اور مشورے سے، اکثریت رائے سے ہی فیصلے ہوں اور کام ہوں۔بعض جگہ امراء اس حق کو ضرورت سے زیادہ استعمال کرنے لگ جاتے ہیں۔اس حق کا استعمال انتہائی صورت میں ہونا چاہئے۔جہاں یہ پتا ہو کہ جماعت کا یہ مفاد ہے تو پھر وہاں عاملہ یہ واضح بھی کر دیا جائے۔وسیع تر جماعتی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے یہ ہونا چاہئے۔اس کے لئے دعا 14