رسومات کے متعلق تعلیم

by Other Authors

Page 42 of 61

رسومات کے متعلق تعلیم — Page 42

42 پس ہمیں قرآن مجید کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے شادی کی سب فضول رسوم ترک کر دینی چاہئیں۔جہاں مطالبات پورے کئے جائیں گے آپس میں اخوت کا خاتمہ ہو جائے گا وہ محبت اور پیار جوان رشتوں کی بقا کا موجب ہوتا ہے جن کی اساس پر آئندہ تعلقات کی بنیاد پڑتی ہے وہ جاتا رہے گا اور ہمارے معاشرہ کی فضا پر امن اور صاف نہیں رہے گی جس کا تقاضا اسلامی معاشرہ کرتا ہے۔شادی کی تقریب پر ایک ضروری چیز گانا بجانا سمجھی گئی ہے جہاں تک خوشی کی تقریب میں خوشی کے گانے گائے جانے کا سوال ہے یہ جائز ہے آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بچیوں کا گیت گانا ثابت ہے اس سلسلہ میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے ارشادات تحریر کرتی ہوں۔میاں اللہ بخش صاحب امرتسری نے عرض کیا کہ حضور یہ جو باراتوں کے ساتھ باجے بجائے جاتے ہیں اس کے متعلق حضور کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا:۔فقہاء نے اعلان بالدف کو نکاح کے وقت جائز رکھا ہے اور یہ اس لئے کہ پیچھے جو مقدمات ہوتے ہیں تو اس سے گویا ایک قسم کی شہادت ہو جاتی ہے۔ہم کو مقصود بالذات لینا چاہئے۔اعلان کے لئے یہ کام کیا جاتا ہے یا کوئی اپنی شیخی اور تعلی کا اظہار مقصود ہے۔۔۔بلکہ نسبتوں کی تقریب پر جوشکر وغیرہ بانٹتے ہیں دراصل یہ بھی اسی غرض کے لئے ہوتی ہے کہ دوسرے لوگوں کو خبر ہو جاوے اور پیچھے کوئی خرابی پیدا نہ ہو۔مگراب یہ اصل مطلب مفقود ہو کر اس کی جگہ صرف رسم نے لے لی ہے۔“