رسومات کے متعلق تعلیم

by Other Authors

Page 37 of 61

رسومات کے متعلق تعلیم — Page 37

37 ہے اور بعض اصول مقرر کر دیئے ہیں اور یہی حالت رسوم کے متعلق ہے۔اسلام نے بعض باتیں کرنے کا حکم دیا ہے اور بعض سے منع کیا ہے۔مثلاً ولیمہ کا حکم اسلام نے دیا ہے مگر دوسری طرف اسراف سے منع کیا ہے اور ولیمہ کے وقت اس کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔“ حضور نے مزید فرمایا:۔وو مجھ پر یہ اثر ہے کہ اس بارہ میں ہماری جماعت میں زیادہ اسراف ہو رہا ہے۔ہم یہ جو قوانین بناتے ہیں یہ دائمی نہیں آئندہ نسل اگر چاہے تو ان کو بدل بھی سکتی ہے اس وقت ہم جو قوانین بناتے ہیں ان کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ ہمارے اندر ایک بدی آ رہی ہے۔اسے روکنے کی کوشش کی جائے۔۔۔۔ہم کوئی ایسا قانون نہیں بنا سکتے کہ شادی بیاہ پر اتنی رقم خرچ کی جائے یا ضرور اتنے ہی مہمان مدعو کئے جائیں ہاں نمائش اور ریاء سے روک سکتے ہیں اور اس پر پابندیاں لگا سکتے ہیں چونکہ کثرت آراء اس کے حق میں ہیں اس لئے میں اس تجویز کو منظور کرتا ہوں نمائش اور ریاء سے ہمارے دوستوں کو ہمیشہ بچنا چاہئے اس کا دوسروں پر بہت بُرا اثر پڑتا ہے۔رپورٹ مجلس مشاورت 1942ء صفحہ 23°24 رسم مہندی کی ممانعت:۔حضرت خلیفۃ اسیح الثانی نے شادی پر مطالبات ممنوع قرار دیئے جانے کی تجویز اور مہندی کی رسم کی ممانعت کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے فرمایا:۔