رسومات کے متعلق تعلیم

by Other Authors

Page 34 of 61

رسومات کے متعلق تعلیم — Page 34

34 تو وہ بھی بدعت پھیلانے والوں میں سے ہے لیکن اگر کوئی شخص اپنی خوشی سے لڑکی کو کچھ دیتا ہے تو یہ ہرگز بدعت نہیں کہلا سکتی۔۔۔اصل بات یہ ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق اگر کوئی دیتا ہے تو اچھی بات ہے لیکن جو شخص یہ معمولی چیز بھی دینے کی استطاعت نہیں رکھتا اور پھر زیر بار ہو کر ایسا کرتا ہے تو شریعت اسے ضرور پکڑے گی۔چونکہ اس نے اسراف سے کام لیا حالانکہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے اسراف و تبذیر سے منع فرمایا ہے جیسے ارشاد ہے لَا تُبَدِّرُ تَبْذِيرًا (بنی اسرائیل : 27) اور اسراف کرنے والوں کو شیطان کا بھائی کہا ہے لیکن اگر کوئی اپنی طاقت اور خوشی کے مطابق اس سے بہت زیادہ بھی دے دیتا ہے تو اس میں مضائقہ نہیں اگر آج ایک شخص اس قدر حیثیت رکھتا ہے کہ وہ لڑکی کو دس ہزار روپے دے سکتا ہے بے شک دے۔اگر اس کے بعد اس کی حالت انقلاب دہر کے باعث ایسی ہو جائے کہ دوسری لڑکی کو کچھ بھی نہ دے سکے تو اس میں اس پر کوئی الزام نہیں آسکتا کیونکہ پہلی کو دیتے وقت اس کی نیت یہی تھی کہ سب کو دے اب حالات بدل گئے۔مختصر یہ کہ بدعت وہ ہے جسے لوگ قطعی حکم نہ ہونے کے باوجود پابندی سے اختیار کریں اور وہ اسلام سے ثابت نہ ہو۔لیکن لوگوں کے کہنے سے اس کو ضروری سمجھا جائے یہ نمائش ہوتی ہے۔اقتباس از تقریر حضرت مصلح موعود - مصباح مئی 1930 تحریک جدید کی غرض سادگی کا قیام:- تحریک جدید کی غرض بھی یہی تھی۔حضرت مصلح موعود کو اللہ تعالیٰ