رسومات کے متعلق تعلیم

by Other Authors

Page 33 of 61

رسومات کے متعلق تعلیم — Page 33

33 حاصل ہوتی ہے۔جہیز کے متعلق آپ نے فرمایا:۔وو دوسری بات جہیز دینا ہے جس چیز کو شریعت نے مقرر کیا ہے وہ یہی ہے کہ مرد عورت کو کچھ دے عورت اپنے ساتھ کچھ لائے یہ ضروری نہیں ہے اور اگر کوئی اس کے لئے مجبور کرتا ہے تو وہ سخت غلطی کرتا ہے ہاں اگر اس کے والدین اپنی خوشی سے کچھ دیتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن یہ ضروری نہیں۔ہاں لڑکے والے نہ دیں گے تو یہ نا جائز ہوگا۔شریعت نے ہر مرد کے لئے عورت کا مہر مقرر کرنا ضروری رکھا ہے۔“ پھر آپ فرماتے ہیں :۔اس میں شبہ نہیں کہ جہیز اور بری کی رسوم بہت بُری ہیں۔اس لئے جتنی جلدی ممکن ہو ان کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔۔۔ایسی وباء اور مصیبت جو گھروں کو تباہ کر دیتی ہے اس قابل ہے کہ اسے فی الفور مٹا دیا جائے اور میں نے دیکھا ہے کہ اچھے اچھے گھرانے اس رسم میں بہت بُری طرح مبتلا ہیں۔دو لیکن اس کے معنے یہ نہیں کہ جہیز بھی اگر کوئی دے سکے تو نہ دے۔ایسے موقعوں پر ہمارے لئے سنت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طرز عمل ہے۔۔۔خدا تعالیٰ کی طرف سے جو مامور آیا اس کی وحی تازہ بہ تازہ ہے اور جو کچھ اس نے کہا وہ اس رس کی طرح ہے جو تازہ پھل سے نچوڑا گیا ہو۔پس اس کا عمل ہی صحیح سنت اور تعلیم اسلام ہے۔جو یہ کہے کہ جہیز نہیں دینا وہ غلطی کرتا ہے اور جہیز ضرور دینا چاہئے