راہِ ایمان — Page 60
60 کے لئے اللہ تعالیٰ کسی برگزیدہ انسان کو دُنیا میں بھیجا کرے گا، جو مجد دکہلائے گا۔غیر احمدی مسلمانوں کا یہ خیال ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے بعد تیرہ صدیوں تک تو برابر مجد د آتے رہے مگر چودھویں صدی میں کوئی مجدد نہ آیا۔گویا چودھویں صدی میں نعوذ باللہ رسول کریم کی پیشگوئی پوری نہ ہوئی۔مگر جماعت احمدیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ جس طرح پہلے ہر صدی میں مجدد آتے رہے اسی طرح اس صدی میں بھی خدا نے حضرت میرزا غلام احمد صاحب علیہ السلام کو مجدد بنا کر بھیجا۔اور اس صدی میں بھی رسول کریم کی پیشگوئی پوری ہوئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیشگوئی بھی فرمائی تھی کہ ایک زمانہ میں دنیا کے لوگ بہت بگڑ جائیں گے۔مسلمانوں میں بھی طرح طرح کی خرابیاں پیدا ہو جائیں گی۔عیسائی قو میں گودینی اور اخلاقی لحاظ سے بہت بگڑ جائیں گی مگر وہ دنیوی لحاظ سے بہت ترقی کریں گی اور نئی نئی ایجادیں کریں گی۔تب خدا دنیا کی اصلاح کے لئے اور اسلام کو ترقی دینے کے لئے ایک خاص وجود کو بھیجے گا جو سیح موعود اور مھدی کہلائے گا۔غیر احمدی مسلمانوں کا خیال ہے کہ گوڈ نیا واقعی بہت بگڑ چکی ہے عیسائی قوموں نے بہت ترقی بھی کر لی ہے اور اُنہوں نے بہت سی نئی نئی ایجادیں بھی کی ہیں۔اور رسول کریم کی پیشگوئی کی ساری علامتیں پوری ہو چکی ہیں لیکن ابھی وہ مسیح موعود نہیں آیا جس نے دنیا کی اصلاح کرنی ہے۔اُن کا خیال ہے کہ آنے والا مسیح موعود حضرت عیسی علیہ السلام ہوں گے جو آسمان پر زندہ موجود ہیں۔اور کسی وقت دنیا میں آکر اس کی اصلاح کریں گے۔مگر جماعت احمدیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ جب رسول کریم کی پیشگوئی کی باقی سب باتیں پوری ہوگئی ہیں تو یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ مسیح موعود کے آنے کی پیشگوئی پوری نہ ہوتی۔ہمارا