راہِ ایمان — Page 116
116 66 شبیں جہاں کی ”شب قدر “ اور دن عید میں جو ہم سے چھوٹ گیا اُس جہاں میں رہتے ہو کچھ ایسے گل ہیں جو پژ مُردہ ہیں جُدا ہو کر انہیں بھی یاد رکھو گلستاں میں رہتے ہو تمہارے دم سے ہمارے گھروں کی آبادی تمہاری قید صدقے ہزار آزادی دبلبل ہوں صحن باغ سے دُور اور شکستہ پر پروانہ ہوں چراغ سے دُور اور شکستہ پر