راہ ھدیٰ — Page 76
ا ہر نبی زندہ ہوا اور ثابت ہو گیا کہ وہ معاملات جو ان کے مخالفین نے ان سے کئے تھے اور اس کے مقابلہ میں وہ تائیدات جو خدا تعالٰی نے ان کی فرمائی تھیں وہ سب صحیح اور درست ہیں۔اس الحاد دہریت اور گمراہی کے زمانہ میں اکثر لوگوں نے انبیاء کی نبوتوں کا انکار کر دیا تھا اور طرح طرح کے ان پر حملے کئے۔میں نے تمام نبیوں کی طرف سے اس زمانے میں جنگ مدافعت کی اور جو اعتراضات ان پر کئے جاتے تھے وہ دور کر کے ان کے اصل مدارج و مراتب سے ناواقفوں کو واقف اور واقفوں کو واقف تر بنا دیا۔جس کے نتیجے میں عظمت اور وقار کے لحاظ سے گویا ہر نبی کو زندگی مل گئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کے نتیجہ میں مجھے خدا تعالٰی نے تمام نبیوں کا مظہر بنا دیا اور تمام نبیوں کے مخالفین اپنے اپنے زمانہ کے انبیاء سے جو سلوک کرتے رہے وہ سلوک آج میرے مخالفین نے میرے ساتھ شروع کر دیا اور تمام انبیاء کی جس طرح اللہ تعالی تائید کرتا رہا اسی طرح آج خدا نے ہر مرحلہ پر میری تائید فرمائی۔لدھیانوی صاحب نے چھٹا شعر یہ پیش کیا ہے کہ :- اینک منم که حب بشارات آمدم عینی کجاست تا به نهد پا بمنبرم اس شعر کا صرف یہ مطلب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارات کے مطابق میں آیا ہوں عیسی کہاں ہے تا وہ میرے منبر پر پاؤں رکھ سکے یعنی عیسی علیہ السلام تو زندہ نہیں ہیں بلکہ وفات پا گئے ہیں۔اس لئے وہ امت محمدیہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب اور مظہر بن کر نہیں آسکتے۔چنانچہ اس سے اگلے شعر میں ان کے نہ آنے کی یہ وجہ بیان کی ہے:۔آن را که حق بجنت خلدش مقام داد چون برخلاف وعده برون آرد از ارم کہ حضرت عیسی کو تو اللہ تعالیٰ نے بعد وفات جنت میں جگہ دے دی ہے اس لئے اب اللہ تعالی اپنے وعدہ کہ وَمَاهُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ ( سورة حجر ۴۹ ) کہ جنت سے کوئی نکالا نہیں جائے گا کے مطابق انہیں جنت سے باہر نکال کر کیسے بھیجے گا۔