راہ ھدیٰ — Page 50
" عقیدہ نمبر ۵" وفات سرور عالم کا نقشہ آپ کی رحلت تھی ہستی گر نظیر ہستی محبوب سبحانی (مرضیه صفحه ۳) ایضاً ) اس عنوان کے تحت لدھیانوی صاحب لکھتے ہیں کہ ” قرآنی عقیدہ یہ ہے کہ نجات صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں ممکن ہے اور قادیانی عقیدہ کے مطابق اب صرف مرزا صاحب کی تعلیم کی پیروی ہی موجب نجات ہے۔“ ( صفحہ ۱۸) لدھیانوی صاحب کو ہم کس طرح عقل کی باتیں سمجھائیں معلوم ہوتا ہے کہ عقل ان کے قریب بھی نہیں پھٹکی ہم بار بار سمجھا چکے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب کی الگ تعلیم کوئی نہیں ہے۔تمام تعلیم جو آپ نے پیش کی ہے۔قرآن ہی کی بیان کردہ تعلیم ہے۔اور ایک نکتہ بھی اس سے باہر نہیں۔احمدی عقیدہ یہ ہے کہ نعوذ بااللہ اگر ایک حرف بھی قرآن کریم کے خلاف تعلیم ہو تو ہر گز واجب التعمیل نہیں۔حضرت مرزا صاحب کا اپنا عقیدہ بھی یہی ہے۔قارئین ان مولوی صاحب کی عقل کا اندازہ لگائیں کہ ایک طرف انہوں نے کتابیں پڑھ کر اور کھنگال کر چن چن کر اعتراضات کی کچلیاں نکالی ہیں اور دوسری طرف ان تمام تحریرات کو قارئین سے چھپائے بیٹھے ہیں جو ان کے اعتراضات کو جھٹلانے والی اور ان کے پھیلائے ہوئے زہر کا تریاق ہیں۔نجات حضرت مرزا صاحب کی تعلیم سے وابستہ ہے۔یا رسول اللہ کی اتباع سے۔اس کے متعلق مرزا صاحب کی ہزارہا تحریریں واشگاف الفاظ میں اعلان کر رہی ہیں کہ آج نجات کا ایک ہی ذریعہ ہے جو محمد رسول اللہ سے وابستہ ہے۔چند تحریریں نمونہ ہم ہدیہ قارئین کرتے ہیں۔اپنے دل سے پوچھ کر دیکھیں کہ اس معترض کی دیانت اور اس کے تقویٰ کا کیا حال ہو گا حضرت بانی جماعت احمد یہ فرماتے ہیں۔حضرت مقدس نبی کی تعلیم یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہنے سے گناہ دور ہو جاتے ہیں۔یہ بالکل سچ ہے اور یہی واقعی حقیقت ہے کہ جو محض خدا کو واحد لا شریک جانتا