راہ ھدیٰ — Page 187
دیگر ایسے بزرگ انبیاء بھی شامل ہیں جن کی نبوت سے انکار کی آپ کو مجال نہیں۔پس اب فرمائیے کہ آپ کی بے باکی کی کوئی حد بھی ہے کہ نہیں ؟ آخری بات قابل توجہ یہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے آپ کی اصطلاح میں جو چاپلوسیاں کیں ان کا کھلا کھلا مقصد اور مطلب سوائے اس کے کچھ نہ تھا کہ ملکہ وکٹوریہ کو اسلام کی دعوت دی۔اس کے بدلے ایک آنہ بھی اپنے لئے نہ اپنی جماعت کے لئے طلب کیا اور آپ کو یا آپ کے خاندان یا جماعت کو حکومت برطانیہ کی طرف سے ایک چپہ زمین بھی عنائت نہ ہوئی۔پس اگر یہ چاپلوسی ہی ہے تو جیسا کہ ثابت ہے خدا کے رسول کے نام پر ایک عظیم فرمانروا کو ہدایت کی طرف بلانے کے لئے یہ چاپلوسی قابل مذمت نہیں۔بلکہ لائق صد آفرین ہے لیکن مولوی صاحب اپنے بزرگ مولویوں کی ان چاپلوسیوں کا کیا جواب دیں گے جن کی چاپلوسیوں کی نظر حکومت برطانیہ کے مادی فیضان پر رہتی تھی۔اور ان کا کاسہ گدائی حکومت برطانیہ کی طرف سے بارہا بھرا گیا۔کیا مولوی صاحب کو یہ علم ہے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے جو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشتد ترین مخالف تھے۔اپنی کن خدمات کے عوض حکومت برطانیہ سے اتنی جائیداد کی جاگیر پائی اور کیا مولوی صاحب کو علم نہیں کہ مدرسہ دیو بند کا افتتاح کس لیفٹینٹ گورنر بہادر نے کیا تھا ہے اور کس حکومت کے وظیفے سے یہ مدرسہ دسیوں سال خیرات پاتا رہا ہے یہ فہرست تو بہت لمبی ہے محض نمونہ ایک دو باتیں پیش خدمت کی ہیں تاکہ آئندہ آپ اپنے قلم کو سنبھال کر رکھیں اور ادب سکھائیں۔عقیده نمبر ۸ اس عنوان کے تحت لدھیانوی صاحب نے پھر یہی بات دوپہرا دی ہے کہ مرزا صاحب اپنے آپ کو افضل کہتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سے کمتر قرار دیتے ہیں۔ہم اس امر کی بار ہا تردید کر چکے ہیں اس لئے اسے اب یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے جماعت احمد یہ اس قسم کے شیطانی خیال پر ہزار لعنت ڈالتی ہے پتہ نہیں مولوی صاحب کے دماغ میں کہاں سے یہ کیڑا گھس گیا ہے۔جو اعتراض مولوی صاحب کر رہے ہیں اس کے ہم بچے او میٹر چکے ہیں اسلئے قارئین ہے۔