راہ ھدیٰ — Page 13
کاندریں وہ شہر یاری میرسد گفت زمیں سو بوئے یارے میرسد کی شرح میں فرماتے ہیں :- ابو یزید قدس سره قطب الاقطاب بود و قطب نمی باشد مگر بر قلب آن سرور مسلم پس بایزید قلب آن سرور صلعم و عین آن سرور صلی اللہ علیہ وسلم بود - " ( شرح مثنوی - دفتر چهارم صفحه ۵۱) یعنی حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ چونکہ قطب زمانہ تھے اس لئے آپ عین رسول علیہ السلام تھے۔کیونکہ قطب وہی ہوتا ہے جو محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر رہتا ہو۔اور جو بھی کسی کے دل پر ہو وہ اس کا عین ہوتا ہے۔اور حضرت بایزید بسطامی عین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں :- " كاتب الحروف نے حضرت والد ماجد کی روح کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک کے سائے ( ضمن ) میں لینے کی کیفیت کے بارے میں دریافت کیا تو فرمانے لگے یوں محسوس ہوتا تھا۔گویا میرا وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود سے مل کر ایک ہو گیا ہے۔خارج میں میرے وجود کی کوئی الگ حیثیت نہیں تھی۔" ) انفاس العارفین اردو صفحه ۱۰۳ از حضرت شاہ ولی الله ترجمه سید محمد فاروق القادری ایم اے ناشر المعارف گنج بخش روڈ لاہور ) ضمناً ہم مولوی صاحب کو بتاتے چلیں کہ سائے کو ہی عربی زبان میں کل کہتے ہیں۔پھر فرماتے ہیں کہ میرے چچا حضرت شیخ ابو الرضا محمد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ۔حضرت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے خواب میں دیکھا جیسے مجھے اپنی ذات مبارک کے ساتھ اس انداز سے قرب و اتصال بخشا کہ جیسے ہم متحد الوجود ہو گئے ہیں اور اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عین پایا۔" انفاس العارفین صفحہ ۱۹۶ حصہ دوم در حالات شیخ ابو الرضا محمد) اب ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ اس مولوی کے دماغ میں یہ " دو محمد " کا خیال آیا کس طرح ؟