راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 175 of 198

راہ ھدیٰ — Page 175

ها خدا کا کوئی خوف یا تقویٰ کا سایہ بھی نہیں پڑا۔ایسی سوچ رکھنے والا آدمی جو محض تمسخر کی خاطر ازواج مطہرات و طیبات کے بارہ میں ایسی باتیں کرنے کی جسارت کرے۔اس سے تو خدا اور اس کے وہ فرشتے ہی پیٹیں گے جن کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے۔عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ (در آیت نمبر ۳۱) که دوزخ پر ۱۹ فرشتے بطور دار ونحے مقرر ہیں۔بالکل یہی بات ہم آپ پر دوہراتے ہیں کہ آپ کی فطرت بڑی خبیث اور گندی ہے اور آپ کی ہر سوچ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں نہایت خیشانہ اور گندی گالی ہے۔پس یہ آپ کی گالی ہے۔بروز سمجھنے والوں کی نہیں ورنہ آپ کی اس انتہائی سفلہ اشتعال انگیزی کا مورد احمدیوں سے پہلے وہ حضرات بنیں گے جن کے اقوال ہم فصل اول اور فصل سوم میں عقیدہ نمبر ۱۸ کے جواب میں درج کر چکے ہیں جن میں انہوں نے دوسرے اولیاء کو یا آنے والے مہدی و مسیح کو یا خود اپنے تئیں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا حل و بروز قرار دیا ہے۔لیکن آپ ہی ہیں جو اس بد بختی پر سخت سے سخت سزا کے مستحق بنتے ہیں نہ کہ وہ بزرگان دین جنہوں نے روحانی معنوں میں اپنے کلام میں لفظ بروز کا استعمال کیا۔اس نمبر کے تحت لدھیانوی صاحب لکھتے ہیں "آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پہلی زوجہ مطہرہ کا نام نامی خدیجہ تھا مگر بے غیرتی اور بے حیائی کی حد ہے کہ مرزا غلام احمد نے محمد رسول اللہ بننے کے شوق میں خدیجہ کو بھی اپنی طرف منسوب کر لیا۔مرزا کا الہام ہے۔اذکر نعمتی رایت خدیجتی (تذکره: ۳۸۷) الجواب:- میری نعمت کو یاد کر تو نے میری خدیجہ کو دیکھا " ( صفحه ۴۰) یہاں بھی لدھیانوی صاحب نے پبلک کو گمراہ کرنے کے لئے اس قدر جھوٹ بولا ہے اور بے غیرتی اور بے حیائی کی حد کر دی ہے جس کی مثال نہیں۔معزز قارئین! مرزا صاحب کے تمام الہامات پڑھ جائے۔انکی تمام تحریرات اور تقاریر چھان ماریئے کہیں بھی آپ کو یہ نہیں ملے گا کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زوجہ مطہرہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو مرزا صاحب کی طرف اشارہ بھی منسوب کیا گیا ہو۔