راہ ھدیٰ — Page 168
MA اور آپ کو اس کیفیت کو ان الفاظ میں بیان کرنے کی ہدایت دی قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (انعام آیت ۲۱۳) ترجمہ : تو ان سے کہہ دے کہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔پس یہ فنافی اللہ کا مقام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جن معنوں میں قرآن کریم عطا کرتا ہے کہ گویا آپ کا مٹھی بھر کنکریاں چلانا آپ کا نہیں گویا خدا کا مٹھی چلاتا تھا ، مین ہونا صرف ان معنوں میں ہے اور ہرگز اس سے بڑھ کر نہیں۔اسی طرح عقلاً اور شرعا یہ ممکن ہے کہ کوئی عاشق رسول فنافی الرسول کا درجہ پالے۔ہم سمجھتے ہیں کہ مذکورہ بزرگوں کی عبارات میں جہاں عین کا لفظ استعمال ہوا ہے زبان کے لحاظ سے درست استعمال ہو یا نہ ہو مگر ہرگز گستاخانہ استعمال نہیں بلکہ فنافی الرسول کے معنوں میں ہے۔پس جناب مولوی صاحب نے جماعت احمدیہ کے جس بزرگ کا لفظ عین کا حوالہ دیا ہے اس کی بھی بعینہ یہی صورت ہے۔لفظ عین محمد کو مفروضہ بنا کر مولوی صاحب نے جو تابڑ توڑ حملے کئے ہیں ان سب حملوں کو اسی فصل پنجم کے نمبر ۲ کے تحت جزو نمبر ز میں بیان کیا ہے اور اب انہوں نے جزو نمبر 1 میں حسب ذیل سوالات اسی مفروضہ کے تحت درج کئے ہیں۔ا۔حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کا داماد کون تھا ؟ ۲ حضرت عائشه و حفصہ کا شوہر کون تھا ؟ حضرت عثمان اور علی کس کے داماد تھے ؟ -۴- حضرت فاطمہ زینب، رقیہ ام کلثوم کس کی صاحبزادیاں تھیں ؟ حسن و حسین کس کے نواسے تھے ؟ بدر و حنین کے معرکے کس نے سر کئے ؟ ۷ شب معراج میں انبیاء کرام کا امام کون تھا ؟ - قیصر و کسری کی گردنیں کس کے غلاموں کے سامنے جھکیں ؟۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ - ہمارا ان سب سوالات کو بیان کر دیتا ہی کافی ہے۔صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ واہ رے مولوی صاحب آپ کی تو مت ہی ماری گئی ہے۔