راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 148 of 198

راہ ھدیٰ — Page 148

۱۴۸ ایک اور جگہ فرمایا :- مَا نَعْبُدُهُمُ الَّا لِيَتَرَبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلفى ( الزمر آیت نمبر ۴) یہاں پر بھی یقولون محذوف ہے اور ترجمہ یوں ہو گا کہ مشرکین کہتے ہیں کہ ہم اپنے بنائے ہوئے شریکوں کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں۔یہاں پر ہرگز یہ مراد نہیں کہ خدا نعوذ باللہ اپنی بابت یہ کہتا ہے کہ میں مشرکین کے بنائے ہوئے شریکوں کی عبادت کرتا ہوں۔بالکل یہی طرز بیان حضرت مرزا صاحب کے مندرجہ بالا الہام میں ہے جس پر لدھیانوی صاحب جان بوجھ کر ایسا غیر معقول اعتراض کر رہے ہیں اور اس طرز کا اعتراض کر کے وہ در اصل دشمنان اسلام کو قرآن کریم پر حملہ کرنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔چنانچہ مرزا صاحب نے خود اس الہام کے ساتھ نازل ہونے والے دیگر الہامات سمیت جو ترجمہ کیا ہے وہ ذیل میں درج ہے۔اے ازلی ابدی خدا ! میری مدد کے لئے آ۔زمین باوجود فراخی کے مجھ پر تنگ ہو گئی ہے اے میرے خدا میں مغلوب ہوں۔میرا انتقام دشمنوں سے لے پس ان کو پیس ڈال کہ وہ زندگی کی وضع سے دور جا پڑے ہیں تو جس بات کا ارادہ کرتا ہے وہ تیرے حکم سے فی الفور ہو جاتی ) حقیقته الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۰۸٬۱۰۷) ترجمہ یہ ہے کہ "اے خدا تو جس بات کا ارادہ کرتا ہے وہ تیرے حکم سے فی الفور ہو جاتی ہے لیکن مولوی صاحب کی فتنہ پردازی دیکھو کہ کس طرح کھلم کھلا پہلے اتہام باندھتے ہیں اور پھر اپنے مشرکانہ خیالات کا حضرت مرزا صاحب کی طرف منسوب کرنے کی جسارت کرتے ہیں۔حضرت مرزا صاحب کا اس بارہ میں کیا مذہب تھا یعنی آپ ان الہامات کی موجودگی میں کن فیکون" کے اختیارات کس کے لئے مانتے تھے اس کی بابت آپ فرماتے ہیں:۔” نہ ایک دفعہ بلکہ بیسیوں دفعہ میں نے خدا کی بادشاہت کو زمین پر دیکھا اور مجھے خدا کی اس آیت پر ایمان لانا پڑا کہ کہ مُلكُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ یعنی زمین پر بھی خدا کی بادشاہت ہے اور آسمان پر بھی اور پھر اس آیت پر ایمان لانا پڑا کہ اِإِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَمَّ