راہ ھدیٰ — Page 110
من هجرة سيدنا خير الكائنات" خطبہ الہامیہ صفحہ ۱۷۲ طبع الاول روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۲۷۲) ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کی بعثت کے لئے ، صدیوں کے شمار کو ہمارے آقا جو پوری کائنات سے افضل وجود ہیں کی ہجرت سے بدر کی راتوں کے شمار کی مانند اختیار فرمایا (یعنی چودھویں صدی ) لدھیانوی صاحب کو نہ جانے یہ دوسرا فقرہ کیوں نظر نہیں آیا جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مرزا صاحب نے " اپنا آقا " قرار دیا ہے اور آپ کو " خیر الکائنات " پوری مخلوق میں سب سے افضل مانا ہے اس جملہ سے صرف ایک جملہ اوپر کی عبارت سے لدھیانوی صاحب سیاق و سباق کو نظر انداز کر کے یہ مفہوم اخذ کر رہے ہیں کہ مرزا صاحب اپنے وجود کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل قرار دے رہے ہیں۔قارئین کرام الدھیانوی صاحب کو خطبہ الہامیہ صفحہ ۱۷۰۔۷۱ کی یہ عبارت بھی نظر نہیں آئی جس کا ترجمہ حسب ذیل ہے۔مری نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جناب کی نسبت استاد اور شاگرد کی نسبت ہے اور خدا تعالیٰ کا یہ قول کہ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے پس آخرین کے لفظ میں غور کرو اور خدا نے مجھ پر اس رسول کریم کا فیض نازل فرمایا اور اس کو کامل بنایا اور اس نبی کریم کے لطف اور جود کو مری طرف کھینچا یہاں تک کہ مرا وجود اس کا وجود ہو گیا پس وہ جو مری جماعت میں داخل ہوا وہ در حقیقت میرے سردار خیرالمرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا اور یہی معنے آخرین مہم کے لفظ کے بھی ہیں جیسا کہ سوچنے والوں پر پوشیدہ نہیں" (خطبہ الہامیہ صفحہ ۱۷۰ ۱۷۱ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۶ صفحه ۲۵۸) لدھیانوی صاحب کو خطبہ الہامیہ کے شروع میں " الاعلان " کے زیر عنوان صفحہ اج کا یہ فقرہ بھی نظر نہیں آیا کہ " لما كان شان المسيح المحمدی کذلک فما اکبر شان نبی هو من استه" یعنی جب مسیح محمدی کی یہ شان ہے تو اس نبی کی کتنی بلند شان ہو گی، مسیح محمدی جس کی امت کا ایک فرد ہے۔ضمیمہ خطبہ الہامیہ کے حاشیہ صفحہ "ح میں فرماتے ہیں