راہ ھدیٰ — Page 102
ظلمات سے نکال کر نور کی طرف لانے کا سبب ہو اور اس کی قوم خیر امت ہو جو تمام لوگوں کے لئے نکالی گئی ہو لہذا اس نبی کی پہلی بعثت دوسری بعثت کو بھی لئے ہوئے ہو گی " اسی طرح حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ بروز حقیقی کی اقسام بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:- اما الحقيقي فعلى ضروب۔۔۔۔۔۔و تارة اخرى بان تشتبك بحقيقة رجل من اله او المتوسلين اليه كما وقع لنبينا صلى الله عليه و سلم بالنسبة الى ظهور المهدی تفہیمات اہلیہ فارسی جزو ثانی تقسیم نمبر ۲۲۷ از حضرت شاہ ولی اللہ ناشر شاہ ولی اللہ اکادمی حیدر آباد - سندھ مطبوعہ مطبع حیدر حیدر آباد سندھ ۱۹۷۷ء / ۱۳۸۷ھ ) ہے یعنی حقیقی بروز کی کئی اقسام ہیں۔کبھی یوں ہوتا ہے کہ ایک شخص کی حقیقت میں اس کی آل یا اس کے متوسلین داخل ہو جاتے ہیں جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہدی - تعلق میں اس طرح کی بروزی حقیقت وقوع پذیر ہوگی۔یعنی مهدی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی بروز ہے۔حضرت شاہ ولی اللہ صاحب اپنی کتاب الخیرا لکثیر میں فرماتے ہیں۔حق له ان ينعكس فيد انوار سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم ويزعم العامة انه اذا نزل الى الارض كان واحدا من الامة كلا بل هو شرح للاسم الجامع المحمدى و نسخة منتسخة منه فشتان بينه و بين احد من الامة الخير الكثير صفحه ۷۲ مطبوعه بجنور) یعنی امت محمدیہ میں آنے والے مسیح کا حق یہ ہے کہ اس میں سید المرسلین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار کا انعکاس ہو۔عوام کا خیال ہے کہ مسیح جب زمین کی طرف نازل ہو گا تو وہ صرف ایک امتی ہو گا۔ایسا ہرگز نہیں بلکہ وہ تو اسم جامع محمدی کی پوری تشریح ہو گا اور اس کا دوسرا نسخہ ہو گا پس اس میں اور ایک عام امتی کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔اس عبارت میں حضرت شاہ صاحب نے آنے والے مسیح کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار کا پورا عکس اور آپ کا کامل حل و بروز قرار دیا ہے۔