راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 97 of 198

راہ ھدیٰ — Page 97

۹۷ ضرورت پیش آتی۔" ( کلمتہ الفصل صفحہ ۱۵۸) قارئین کرام - دراصل یہ تحریر ایک ایسے معترض کو پیش نظر رکھ کر لکھی گئی جو خود تسلیم کرتا تھا کہ احمدیوں کا کوئی الگ کلمہ نہیں ہے اور اس طرح چالاکی سے احمدی علم کلام پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔غرض یہ تھی کہ احمدیوں کو ملزم کرے کہ اگر تمہارا یعنی حضرت مرزا صاحب کا الگ کلمہ نہیں ہے تو وہ کسی معنوں میں بھی نبی نہیں کہلا سکتے اور اگر کلمہ الگ ہے تو امت محمدیہ سے خارج ہو جاتے ہیں۔چالاکی کے اس پھندے سے نکلنے کی کوشش سے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یہ عبارت لکھی جس پر جناب لدھیانوی صاحب بھر بھر کر حملہ کر رہے ہیں۔در حقیقت اس کا جواب جو مصنف کتاب " کلمتہ الفصل " دنیا چاہتے تھے اور وہی آج بھی ہر احمدی کا جواب ہے جو یہ ہے کہ یہ درست ہے کہ جماعت احمدیہ کا کوئی الگ کلمہ نہیں اور مولوی صاحب جو یہ بات پیش کرتے ہیں کہ جماعت کا کوئی الگ کلمہ ہے یہ بالکل جھوٹ ہے۔جماعت احمدیہ کا وہی کلمہ ہے جو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔ہم حضرت مرزا صاحب کو ہرگز محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر آزاد نبی کے طور پر تسلیم نہیں کرتے۔ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام اور تابع کو اگر امتی نبی کے مقام پر سرفراز فرمایا جائے تو ہر گز نئے کلمہ کی ضرورت نہیں کیونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ ہی قیامت تک کے لئے حاوی ہے اور غیر متبدل ہے۔یہ بات معترض کو سمجھاتے ہوئے مصنف " کلمتہ الفصل " نے ایک یہ طرز بھی اختیار کی کہ اسے بتائیں کہ اصل میں محمد نام اور محمد مقام اتنے عظیم ہیں کہ صرف گذشتہ زمانوں پر ہی حاوی نہیں آئندہ زمانوں پر بھی حاوی ہیں۔پر جس طرح یہ کہنا درست ہو گا کہ جملہ انبیاء کے نام جیسے آدم ، نوح، ابراہیم موسی ، عیسی وغیرہ محمد نام کے تابع اور اس کے کلمہ میں شامل ہیں اسی طرح یہ کہنا بھی درست ہے کہ بعد میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض یاب ہو کر اگر کسی امتی کو مقام نبوت عطا ہو تو وہ بھی اسم محمد کی جامعیت میں داخل ہو گا۔یہ استدلال کوئی محض ذوقی نکتہ نہیں بلکہ ایک ٹھوس حقیقت پر مبنی ہے جس پر ان ظاہری مولویوں کی نظر نہیں۔