راہ عمل — Page 87
خلاف ورزی کرنا تو ایک قسم کا باغیانہ رجحان ہے۔پس نظام جماعت کے نمائندہ لوگوں کا فرض بن جاتا ہے کہ جب کبھی ان کو کوئی ایسی ہدایت دی جائے وہ اس پر عمل کرنا شروع کر دیں اس میں بہت بڑی سعادت ہے اس کے نتیجہ میں خدا ان کو بہت ساری نیکیاں نصیب فرمائے گا بہت ساری نئی نیکیوں کی توفیق عطا فرمائے گا ان کی کوشش کو مزید بہتر پھل لگنے شروع ہو جائیں گے۔ا اس لیے میں دوبارہ یا دہانی کرانی چاہتا ہوں کہ یورپ میں بھی اور امریکہ میں بھی اور باقی ساری دنیا کی جماعتیں بھی اس بات پر پابندی کے ساتھ قائم ہو جائیں کہ ہر مہینے ایک دفعہ مجلس عاملہ میں ان باتوں پر غور کیا جائے کہ کہاں تک جماعت دعوت الی اللہ کا کام کر رہی ہے جہاں دعوت الی اللہ نہیں کر رہے ہیں وہاں کیوں نہیں کر رہے اور ایسے کون سے ذرائع اختیار کرنے چاہیں جن کے نتیجہ میں دعوت الی اللہ کا کام تیز ہو سکے اور معنی خیز ہو سکے پس اگر ہم اس سنجیدگی کے ساتھ کام کریں گے تو مجھے یقین ہے کہ بہت تیزی کے ساتھ دنیا میں انقلاب پیدا ہونا شروع ہو جائے گا۔دعوت الی اللہ کے لئے جذبہ اور دعا کی ضرورت : پس دعوت الی اللہ کے لیے سب سے زیادہ ضرورت ایک تو جذبے کی ہے اور دوسرے دعا کی ہے علم اور دلیل اور اسی طرح باقی سب چیزیں بعد کی ہیں یہ دو باتیں آپ اپنے اندر پیدا کر لیں ایک یہ کہ آپ اپنے اندر جذبہ پیدا کریں اور دوسرے یہ کہ اپنے لیے دعا کرنی شروع کر دیں کہ خدا اس کا کام کے کرنے کی توفیق عطا فرمائے تو باقی سارے مراحل انشاء اللہ آسانی سے ملے ہو جائیں گے۔داعی الی اللہ کون ہے ؟ خطبہ جمعہ ۲۵ نومبر ۱۹۸۷ء ) داعی الی اللہ تو وہ ہوتا ہے کہ جب ایک دفعہ عہد کرتا ہے تو پھر عمر بھر اس عمد کو کامل وفا کے ساتھ نباہتا ہے اور آخری سانس تک داعی الی اللہ بنا رہتا ہے۔( الفضل ۵ جون ۱۹۸۳ء )