راہ عمل — Page 76
LL کرنا چاہیئے کہ سال میں ایک دفعہ ایک احمدی بنانے کا جو میں عہد کرتا رہا ہوں یا سنتا رہا ہوں کہ مجھے یہ محمد کرنا چاہیے۔اب سو سالہ جشن منانے میں آخری دو سال رہ گئے ہیں ان دو سالوں میں بھی اپنا نام خدا تعالی کی اس فہرست میں لکھوالوں جس کا ذکر قرآن کریم کی ان آیات میں ملتا ہے کہ جو شخص خدا تعالٰی کی خاطر اچھا کام کرتا ہے اس پر خدا تعالی کی نظر پڑتی ہے۔تو کہیں یہ نہ ہو کہ سو سال کا عرصہ گزر جائے اور پہلے سو سال میں کہیں شمار ہی نہ ہو یہ بہت ہی اہم فریضہ ہے جسے اگلے سو سال کی تیاری کے لیئے ہمیں ادا کرنا ہے۔۔۔اور جب میں ایک احمدی کہتا ہوں تو مراد یہ ہوتی ہے کہ خاندان کے نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے اور اس طرح ایک خاندان ایک اور خاندان کو احمدی بنائے مقامی طور پر جہاں جہاں اب تک لوگ احمدی نہیں ہوئے وہاں وہاں احمدیت کے پودے لگانے کی کوشش کی جائے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ ہم کم سے کم ایک سو خاندان تو پیش کر سکیں یعنی یہ کہہ سکیں کہ اے خدا ہر سال کا ایک خاندان ہم تیرے حضور پیش کرتے ہیں۔اس اہم منصوبہ کا احساس دل میں پیدا کریں۔آپ کو چاہیے کہ اس شان سے اگلی صدی میں داخل ہوں کہ آپ کے ساتھ ایک ذریت طیبہ ہو یعنی متقیوں کی ایک عظیم الشان روحانی اولاد ہو جو آپ کے ساتھ ساتھ اجتماعی رنگ میں ایک جلوس مناتے ہوئے اس گیسٹ سے گزر رہی ہو اس کے لیے بہت ہی محنت کی ضرورت ہے سب سے بڑی اور پہلی ضرورت تو یہ ہے کہ اس اہم منصوبہ کا احساس آپ کے دل میں اس قوت کے ساتھ جاگزیں ہو جائے کہ آپ اس احساس کو کسی طرح بھلا نہ سکیں صبح بھی یہ احساس لے کر اٹھیں اور رات کو بھی یہ احساس لے کر سوئیں اور دن کو بھی سارا وقت آپ کے دل میں یہ احساس بیدار رہے گویا ہر احمدی کو چاہیے کہ وہ اپنے دل کو کرید تا رہے کہ اس نے کتنے احمد کی بنائے ہیں۔وہ دوسروں کے متعلق یہ سنتا ہے کہ فلاں نے اتنے احمدی بنائے اسے خود یہ سوچنا چاہیے کہ اسے کتنے احمدی بنانے کی توفیق ملی ہے اس لیے ساری دنیا کے احمدیوں کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اپنے اندر اس احساس کو پیدا کرنے کی طرف متوجہ ہوں۔یہ کام دعاؤں سے ہو گا۔غرض جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے ہر کام دعا کے بغیر نہیں