راہ عمل — Page 75
64 1 جائزہ لینا چاہیے کہ آیا ان کی کوششیں پھل پیدا کر بھی رہی ہیں یا نہیں بعض ایسے نوجوان ہیں یا بڑی عمر کے لوگ بھی جو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ پورے اخلاص اور تقویٰ سے اللہ تعالی کی طرف دعوت دینے کے پروگرام میں شامل ہوئے اور ان کو ہر سال اللہ تعالٰی پھل دے رہا ہے انہیں ان جگہوں سے پھل دے رہا ہے جنہیں آپ بے پھل کی جگہیں مجھتے ہیں۔انہی زمینوں پر پھل دے رہا ہے جنہیں آپ سنگلاخ سمجھتے تھے اس لیے یہ بہانہ تو خدا تعالٰی کے ہاں مقبول نہیں ہو گا کہ ہم ایسے ملک میں رہتے تھے جہاں دنیا پرستی تھی دنیا داری میں لوگ اتنے بڑھ گئے تھے کہ بات نہیں سنتے تھے اس لیئے بات سنانے کا ڈھنگ سیکھنا پڑے گا اور بات سنانے کے ڈھنگ میں خدا تعالیٰ نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ تقویٰ سے کام لیا جائے جتنا زیادہ کسی میں تقویٰ ہوتا ہے اس کی بات میں بھی اتنا ہی زیادہ اثر پیدا ہوتا ہے ورنہ خالی چالا کی کام نہیں آتی، خالی علم کام نہیں آتا اس لیے احباب کو چاہیے کہ بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے وہ اپنے اندرونی تقوی کا معیار بلند کریں اور صرف یہ نہ سوچیں کہ فلاں میں نقص تھا اس لیئے بات نہیں سنی گئی یہ بھی غور کریں کہ کہیں کہنے والے میں تو کوئی نقص نہیں ہے یہی بات ایک اور شخص کہتا ہے تو وہ اثر رکھتی ہے۔یہی بات ایک اور شخص کہہ رہا ہے تو وہ اثر کھو دیتی ہے اس لیئے بات کا قصور نہیں ہوتا سنے والے کا قصور ہو سکتا ہے لیکن بعید نہیں کہ سننے والے کا بھی قصور نہ ہو بلکہ سنانے والے کا قصور ہو۔۔۔اس لیے ہر احمدی کو چاہئے کہ وہ اپنی بات کو درست انداز میں پیش کرے اس کے نوک پلک درست کر کے بیان کرے اسے خوبصورت بنائے اور پھر بیان کرے کیونکہ اللہ تعالٰی نے دعوت الی اللہ کے ساتھ حسن قول کا ذکر فرمایا ہے اور پھر حسن عمل کا ذکر ہے اس لیے قول بھی حسین کریں اور عمل جو اس حسن قول کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ رکھتا ہے جس کے بغیر آپ کی باتوں میں غیر معمولی برکت پیدا ہو اللہ تعالی کی طرف سے خاص اثر پیدا ہو اگر یہ شرائط آپ پوری کر دیں تو نا ممکن ہے کہ آپ کی دعوت بے شمر رہ جائے۔سال میں ایک احمدی کا عہد : ہر احمدی کو آئندہ دو سال کے لیے دوبارہ یہ عہد