راہ عمل

by Other Authors

Page 63 of 89

راہ عمل — Page 63

۶۴ زیب دیتی ہیں اور دو اثر کرتی ہیں مثلا جب غم کی کیفیت ہو تو اس وقت اور قسم کی بات کی وہ جاتی ہے۔اور جب خوشی کی کیفیت ہو تو اور طرح کی بات کی جاتی ہے اسی طرح خوف و پراس کا زمانہ ہو تو اور طرح سے بات کرنی پڑے گی۔مناسب انتخاب -: حکمت کا ایک تقاضا یہ ہے کہ مناسب زمین کا انتخاب کیا جائے دنیا میں بے شمار مخلوق ہے جس کو خدا تعالیٰ کی طرف بلانا ہے انسان نظری فیصلے سے یہ معلوم کر سکتا ہے کہ کن لوگوں پر نسبتا کم محنت کرنی پڑے گی۔بعض اوقات بعض احمدی بعض ایسے لوگوں کے ساتھ سرمارتے پھرتے ہیں جن کے متعلق ان کی فطرت گواہی دیتی ہے کہ یہ ضدی اور متعصب ہیں اور ان کے اندر تقویی نہیں ہے اور اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے تو ہدایت کا وعدہ ان لوگوں سے کیا ہے۔جو تقویٰ رکھتے ہیں جن کے اندر سچائی کو سچائی کہنے کی ہمت اور حوصلہ ہے ( مسیح نے بھی کہا میں سوروں کے سامنے کس طرح موتی ڈالوں) سعید فطرت لوگوں کو چنیں۔ان میں سے بھی پہلے جرات مندوں کو چنیں جو مردانہ صفات رکھتے ہیں۔جو خود مبلغ بن جائیں۔مسلسل رابطہ رکھیں : پھر فصل کی نگہداشت کرنا بھی حکمت کا تقاضا ہے۔جب دعوت الی اللہ کرتے ہو یا کرو گے تو بہت لطف اٹھاؤ گے پھر دوبارہ اس شخص کو تلاش نہیں کرو گے اور اس سے دوبارہ نہیں ملو گے اور سہ بارہ اس سے نہیں ملو گے اور پھر چوتھی دفعہ اس سے نہیں ملو گے اور پھر پانچویں دفعہ نہیں ملو گے تو تم اپنے پھل سے محروم کر دیئے جاؤ گے۔کیونکہ وہ نیک اثر ابھی دائمی نہیں ہوا۔۔۔۔۔اس لیے جب تک وہ تمہارا نہیں ہو جاتا تمہیں مسلسل اس کی طرف توجہ کرنی پڑے گی اگر توجہ نہیں کرو گے تو تمہاری مفتیں ضائع ہوتی چلی جائیں گی۔- دعاؤں سے آبیاری : جب تک کسی کھیتی کی آبیاری نہ کی جائے اس وقت تک وہ پھل نہیں دے سکتی اور پانی دینے کے دو طریق ہیں ایک دنیا میں علم کا پانی جو آپ دیتے ہیں لیکن اصل پھل اس فصل کو لگتا ہے جسے آسمان کا پانی میسر آجائے اور وہ آپ کے آنسوؤں کا پانی ہے جو آسمان میں تبدیل ہوتا ہے۔اگر محض علم کا پانی