راہ عمل — Page 56
۵۷ پوری طرح عبور بھی حاصل ہو۔اس پہلو سے جب ہم تربیتی کلاسز منعقد کرتے ہیں تو ہمیں حکمت کے اس نکتے سے اس موقع پر بھی زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہئے کوئی طالب علم جس کو ایسی کلاسوں میں آنے کا تھوڑا سا وقت ملتا ہے۔اس کو بجائے اس کے کہ زیادہ سے زیادہ دلائل سمجھائے جائیں جن سے زیادہ ذہن Confuse ہوں یعنی خلط بحث پیدا ہو جائے۔کوشش کی جائے کہ قرآنی تعلیم کے مطابق ایک چوٹی کی دلیل چنی جائے یہ اس کو یاد کروائی جائے اس میں اس کو میل کیا جائے۔اس کے سارے پہلو ذہن میں اجاگر کئے جائیں تاکہ وہ اسے زیادہ عمدگی کے ساتھ استعمال کر سکے۔پھر اس دلیل پر جو حملہ ہوتا ہے اس کا جواب بھی تفصیل سے سمجھایا جائے۔گویا ایک دلیل کو لے کر اس پر پوری مہارت پیدا کر دی جائے تو یہ ادلع بالتی ھی احسن کے حکم کی اطاعت ہو گی۔غرض ادفع بالتی ھی احسن کے تابع ہر احمدی جو داعی الی اللہ بنا چاہتا ہے اس کو پہلے تمام اختلافی مسائل کی کوئی ایک دلیل چننی نہیں چاہئے بلکہ وہ دلیل چینی چاہئے جس پر وہ ذہنی اور علمی لحاظ سے خوب عبور حاصل کر سکتا ہو اور شروع میں اپنے لم کو بہت زیادہ نہ پھیلائے یہ بعد کی باتیں ہیں فی الحال تو سب سے قومی دلیل وفات مسیح کی ہے اور سب سے عمدہ تشریح قرآن کریم سے آیت خاتم انسین کی ہے اور اسی طرح دیگر مسائل مثلاً صداقت حضرت مسیح موعود کے موضوع پر ایک دلیل کو چنیں اور اس پر عبور حاصل کریں۔- - تیسرا پہلو: ادفع بالتي هی احسن کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ جب مناظرہ شروع ہو گفتگو شروع ہو تو تمہارا یہ کام نہیں ہے اور تمہاری گفتگو کا یہ مقصد نہیں ہے کہ تم دوسرے کو نیچا دکھاؤ اور اس کی تذلیل کرو کیونکہ قول کا حسن جاذبیت کے معنی رکھتا ہے اس لئے تم جس بات کو پیش کرو اسے اس طرح پیش کرو کہ لوگوں میں اس کے ، اس کے لئے کشش پیدا ہو نہ کہ نفرت میں اور بھی ا سکیحت ہو جائے۔- اعمال کا حسن : داعی الی اللہ کا دوسرا پہلو اعمال کو حسین بنانے سے تعلق رکھتا ہے۔کیونکہ دو باتیں بیان فرمائی تھیں ایک یہ کہ مومن داعی الی اللہ ہوتا ہے دوسرے یہ کہ عمل صالح یعنی وہ نیک اعمال بھی بجا لاتا ہے۔گویا اعمال کو اس طرح ادا