راہ عمل — Page 52
۵۳ لوگوں میں داخل ہو گیا ہوں جو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ہیں جن کا عمل صالح ہے اور جو خدا تعالٰی کے فرمان کے مطابق یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں جب یہ بات ساتھ لکھی ہوئی لے گی تو پھر آپ دیکھیں گے کہ کس طرح میرے دل سے دعائیں پھوٹ پھوٹ کر نکلیں گی۔میرے دل میں سے نہیں ہر احمدی کے دل سے ان لوگوں کے لئے پھوٹ پھوٹ کر دعائیں نکلیں گی اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے نذرانے دینے والا بنائے اور مجھے ایسے نذرانے قبول کر کے ان کا حق ادا کرنے والا بنائے۔) خطبه جمعه فرموده ۲۸ جنوری ۱۹۸۳ء ) داعی الی اللہ اور استقامت - وہ لوگ ہیں جو یہ اعلان کرتے ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر اس دعوئی پر استقامت اختیار کرتے ہیں۔۔۔دینا اللہ کا دعوی کرنے والوں پر کئی قسم کے ابتلاء آتے ہیں جن کے نتیجہ میں انہیں استقامت دکھانی پڑتی ہے کچھ اندرونی انتلاء ہیں اور کچھ بیرونی ابتلاء۔اندرونی طور پر تو یہ قوم تربیت کے ایسے مشکل راستوں سے گزرتی ہے کہ قدم قدم پر ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ جس رب کے پیچھے تم چل رہے ہو اس کے نتیجہ میں تو تمہارا رزق کم کیا جائے گا اور تم مشکلات اور مصیبتوں میں مبتلا کئے جاؤ گے تم عجیب پاگل قوم ہو کہ بڑی محنت کے ساتھ اپنی حکمتوں کو استعمال کرتے ہوئے اور اپنی جسمانی طاقتوں کا استعمال کرتے ہوئے تم روپیہ کماتے ہو اور پھر اس روپیہ کو از خود خدا کے نام پر خرچ کر دیتے ہو اور دعویٰ یہ ہے کہ ربنا اللہ اللہ ہمارا رب ہے اس کے مقابل دوسرے کمانے کے ہر راستے کو اپنے لئے کھلا رکھتے ہیں اور عیش کرتے ہیں مگر ربنا اللہ کہنے والوں نے رشوت کی کمائی کے رہتے بند کر دیئے۔ربنا اللہ کہنے والوں نے ظلم کے ذریعہ ہتھیائی ہوئی جائیدادیں حاصل کرنے کے رستے اپنے اوپر بند کر دیئے ربنا اللہ کہنے والوں نے تکڑی کے قول میں خرابی کے ذریعہ آمدن پیدا کرنے کے رستے بند کر دیئے۔ربنا اللہ کہنے والوں نے چوری کے رستے بند کر دیئے ( جبکہ سب راستے دوسروں کے لئے ہیں ) یہ وہ اندرونی ا آزمائش ہے جس میں سے یہ لوگ گزرا کرتے ہیں اور اس کا نام استقامت ہے۔