راہ عمل

by Other Authors

Page 50 of 89

راہ عمل — Page 50

۵۱ تھا اور دعوت الی اللہ کیا کرتا تھا آج اس سے کم ہے اس وقت ہر احمدی داعی تھا ہر شخص دعوت الی اللہ کر رہا تھا۔ایک زمیندار کھیتوں میں ہل چلاتا تھا تو وہ بھی دعوت کر رہا ہوتا تھا۔ایک تاجر جب لفافوں میں سودا ڈال کر گاہکوں کے ہاتھ فروخت کر رہا ہوتا تھا تو اس وقت بھی وہ دعوت کا کام کر رہا ہو تا تھا ایک حکیم جب دوائیوں کی پڑیاں بنا کر کسی کو دیتا تھا یا ڈاک میں پارسل بھیجتا تھا تو وہ ساتھ دعوت دے رہا ہوتا تھا۔کوئی احمدی کسی بھی حیثیت کا ہو خواہ وہ وکیل ہو یا ڈاکٹر ہو خواہ وہ تاجر ہو یا کوئی اور پیشہ ور ہو خواہ وہ نجار ہو یا لوہار ہر حیثیت میں وہ پہلے داعی تھا اور اس کی دوسری حیثیت بعد میں تھی۔چنانچہ یہی وجہ تھی کہ حضرت مسیح موعود نے لیکچر لدھیانہ میں یہ بات واضح فرمائی کہ جہاں تک بیجوں کے اعداد و شمار کا تعلق ہے۔دو ہزار چار ہزار چھ ہزار تک بیتیں وصول ہوئی ہیں۔۔۔جس کا مطلب ہے حضرت مسیح موعود کے زمانے میں بہتر ہزار بیعتیں سالانہ ہوا کرتی تھیں۔داعی کے لئے جامعہ سے پاس ہونا ضروری نہیں اگر ہر احمدی اپنے آپ کو اول طور پر داعی بنا لے اور نفس کی قربانی میں سب سے زیادہ اہمیت دعوت الی اللہ کو دے تو آپ کے داعیان کی تعداد ساری دنیا کے عیسائی مبلغوں سے بڑھ جاتی ہے۔بعض جگہ ایک ایک ملک میں آپ کے داعیان کی تعداد ساری دنیا کے عیسائی مبلغوں کی تعداد سے بڑھ جاتی ہے۔اور یہ خیال کر لینا کہ دائی ہونے کے لئے باقائدہ جامعہ سے پاس ہونا ضروری ہے بڑی ہی بے وقوفی اور نادانی ہے۔انسان اپنی حیثیت کو نہ پہنچانے کے نتیجے میں یہ بات سوچتا ہے۔دعوت الی اللہ کا بڑا ہتھیار دعا ہے امر واقعہ یہ ہے کہ ہر مسلمان جو میدان جہاد میں داخل ہونا چاہے اس کا سب سے بڑا ہتھیار دعائیں ہیں انسان جب اللہ تعالی کی طرف بلاتا ہے تو مدد بھی تو اللہ تعالی ہی سے مانگتا ہے۔پس دعوت الی اللہ کا سب سے بڑا ہتھیار تو اللہ تعالی کی مدد ہے۔اور دعا کے ذریعہ جب ایک مومن میدان جہاد میں داخل ہوتا ہے تو ساری دنیا کی طاقتیں اس کے