راہ عمل

by Other Authors

Page 36 of 89

راہ عمل — Page 36

۳۷ ہو۔اور جب تک یہ نہ ہو۔اپنا معیار بھی نیچے رکھے تا مساوات قائم ہو سکے۔اور باہم میل جول میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔جب تک دنیا میں ایسی اقوام موجود ہیں جو ارنے حالت میں ہیں۔اس وقت تک ہمارے لئے کسی اونچی جگہ کا خواب دیکھنا بھی ممکن نہیں اس وقت تک ہمارے لئے ایک ہی رستہ ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالی جو کچھ دے لے لیں۔اور پھر اسے دوسروں کی بہتری اور بھلائی کے لئے خرچ کریں اور دوسروں کو اوپر لے جانے کے لئے اسے کام میں لائیں اور جب وہ سرے بھی اوپر آجائیں تو پھر خود بھی آئیں۔صحابہ کرام نے بے شک دولتیں بھی کمائیں مگر انہیں اپنے آرام و آسائش پر ا خرچ نہیں کیا۔بلکہ دین کی راہ میں خرچ کرتے رہے ابھی دنیا میں اربوں انسان ایسے ہیں کہ جن کے جسم بھی اور جن کی روحیں بھی انتہائی غربت کی حالت میں ہیں۔اور ان سب کی اصلاح ہمارے ذمہ ہے۔جب تک ان کی اصلاح نہ ہو جائے ہمیں اپنے آرام کا خیال تک بھی نہ کرنا چاہئے۔اور اپنی زندگیوں کو ایسا سادہ بنانا چاہئے کر غرباء کے ساتھ باسانی مل سکیں۔اور اپنی باتیں انہیں سنا سکیں اگر ہمارے نوجوان اسی طرح غیر ممالک میں دعوت کے لئے جاتے رہیں۔جس طرح اب یہ نوجوان جا رہے ہیں تو یہ ایک ایسی خوشکن بات ہو گی جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت مسیح موعود مهدی مسعود ناز اور فخر کر سکتے ہیں۔اور ہم اس کام کی ابتداء کر سکتے ہیں۔کہ جو ہمارے پرد ہے۔اور یہ اسی طرح ہو سکتا ہے۔کہ دوسرے نوجوانوں میں بھی یہ احساس پیدا ہو وہ اپنے آپ کو پیش کریں دین حق کی طرف دعوت دینے کے لئے بیرون ملک جانے پر خوشی کا اظہار کریں اور ان لوگوں کے پیچھے ایک لمبی اور کبھی نہ ٹوٹنے والی زنجیر بنائی جا سکے۔ایک کے بعد دوسرا۔دوسرے کے بعد تیسرا جانے کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتا جائے۔کیونکہ کروڑوں افراد کی آبادی رکھنے والے ممالک کے لئے ہزاروں داعیان کی ضرورت ہے۔جو مربی جا رہے ہیں وہ واقف سے مجاہد بھی بن رہے ہیں۔واقف دہ ہوتا ہے جس د نے زندگی وقف کر دی ہو مگر ابھی جہاد میں شرکت کا موقع اسے نہ ملا ہو۔اور مجاہد وہ ہوتا ہے جو عملی طور پر جہاد میں شریک ہو جو نوجوان اس وقت دعوت الی اللہ کی تیاری کر رہے