راہ عمل — Page 23
۲۴ ور - ایک چیز اپنے اپنے موقعہ اور محل کے مطابق اور اعتدال کے طور پر ہی ٹھیک ہوا کرتی ہے۔لوگوں کی بھلائی کرتے ہوئے یہ نہیں ہونا چاہئے کہ انسان اپنی بھلائی سے بے فکر ہو جائے۔پس ضروری ہے کہ وہ اپنا تزکیۂ نفس کرے قرآن شریف کا مطالعہ کرے پھر اپنے نفس کا مطالعہ کرے۔" دعوت الی اللہ " بہت عمدہ کام ہے۔مگر دعوت الی اللہ " کرنے میں بھی انسان کے دل پر زنگ لگتا ہے۔کبھی اگر تقریر اچھی ہو گئی۔اپنے مقابل کے مباحث کو ساکت کر دیا تو دل میں ضرور آگیا اور کبھی اگر تقریر اچھی نہ ہوئی لوگوں کو پسند نہ آئی تو مایوسی ہو گئی اور کبھی یہ ایک دلیل دیتا ہے۔دل ملامت کرتا ہے کہ تو رہو کہ وے رہا ہے اس قسم کی کئی باتیں ہیں جو دل پر زنگ لاتی ہیں۔حدیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم جب کسی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے۔تو آپ استغفار پڑھ لیا کرتے تھے۔حالانکہ آپ اعلیٰ درجے کے انسان تھے اور آپ کی مجلس میں بھی نیک ذکر ہو تا تھا یہ اس لئے تھا کہ آپ ہمارے لئے ایک نمونہ تھے۔یہ ہمیں سکھایا جاتا تھا کہ ہم ایسا کیا کریں کہ جب کسی مجلس میں بیٹھیں تو استغفار کرتے رہیں۔اس لئے کہ کسی قسم کا ہمارے دل پر زنگ نہ بیٹھے۔اس لئے ذکر الہی پر زیادہ زور دینا چاہیئے۔نماز وقت پر ادا کرنی چاہئے۔۔- تہجد کی نماز تہجد کی نماز داعی الی اللہ کے لئے بہت ضروری ہے قرآن شریف میں آتا ہے۔یا ایها المزمل قم الليل الا قليلا نصفه او نقص منه قليلا اوزد علیہ و رتل القرآن ترتیلا دان کے تعلقات سے جو زنگ آتے ہیں وہ رات کو کھڑے ہو کر دعائیں مانگ مانگ کر خشوع خضوع کر کے دور کرنے چاہئیں۔-۳ روزہ روزہ بھی بڑی اچھی چیز ہے۔اور زنگ کے صیقل کرنے کے لئے بہت عمدہ آلہ ہے۔صحابہ بڑی کثرت سے روزے رکھتے تھے۔روزہ انسان کی حالت کو خوب صاف کرتا ہے جہاں تک توفیق مل سکے روزہ رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔بعض ایسے مواقع تلاش کرے۔جن میں کسی سے کلام نہ کرے۔خاموش ہو کر بیٹھے خواہ یہ وقت پندرہ میں منٹ ہی ہو۔بہت وقت نہ سہی مگر کچھ وقت ضرور ہونا چاہئے تاکہ