راہ عمل — Page 22
۲۳ دین حق کے لئے قربانیوں کی ضرورت پس اگر پہلے لوگ بھی قربانیاں کر سکتے تھے۔اور ہماری جماعت میں سے بہت سے دوست قربانیاں کر چکے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے دوسرے بھائی ایسی قربانیاں نہ کر سکیں۔جبکہ ان قربانیوں سے ثواب الگ ملے گا۔اور تاریخوں میں نام الگ روشن ہو گا دنیاوی عزتیں بھی قربانیوں کے بعد ملتی ہیں۔اور دینی عزتیں بھی قربانیوں سے ہی حاصل ہوتی ہیں۔پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بہت جلد تیار ہو جائیں تاکہ ہم ان کو ان ممالک میں بھیج دیں جہاں اس وقت زیادہ ضرورت ہے۔اور جو زیادہ تڑپ رہے ہیں۔اللہ تعالی ہمیں توفیق دے کہ ہم بہت جلد حق کو تمام لوگوں تک پہنچا دیں۔اور دین حق کو دنیا میں پھیلا دیں۔داعیان الی اللہ کے لئے پندرہ ذریں نصائح الفضل نے مارچ ۱۹۷۳ء ) ا دعوت میں تزکیۂ نفس سے غافل نہ ہو : سب سے پہلے داعی الی اللہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ تزکیہ نفس کرے۔صحابہ کی نسبت تاریخوں میں آتا ہے۔جنگ یرموک میں دس لاکھ عیسائیوں کے مقابل میں ساٹھ ہزار صحابہ تھے قیصر کا داماد اس فوج کا کمانڈر تھا۔اس نے جاسوس کو بھیجا کہ مسلمانوں کا جا کر حال دریافت کرے۔جاسوس نے آکر بیان کیا کہ مسلمانوں پر کوئی فتح نہیں پا سکتا۔ہمارے سپاہی لڑ کے آتے اور کمریں کھول کر ایسے سوتے ہیں۔کہ انہیں پھر ہوش بھی نہیں رہتی۔لیکن مسلمان باوجود دن کو لڑنے کے رات کو گھنٹوں کھڑے رہ رہ کر دعائیں مانگتے ہیں۔خدا کے حضور گرتے ہیں۔یہ وہ بات تھی جس سے صحابہ نے دین کو قائم کیا۔باوجود تھکے ماندے ہونے کے بھی اپنے نفس کا خیال رکھا۔بعض دفعہ انسان اپنے فریضہ دعوت میں ایسا منہمک ہو جاتا ہے کہ پھر اسے نمازوں کا بھی خیال نہیں رہتا۔ایسا نہیں ہونا چاہئے ہر۔