راہ عمل — Page 9
" ارشادات حضرت خلیفۃ المسیح الثانی O☆O☆O لنڈن کے مربی حضرت مولانا جلال الدین شمس کو نصائح دین کی دعوت " بھی کو ایک نہایت اعلیٰ درجہ کی نیکی ہے۔لیکن " دعوت " کے ساتھ ایک نقص بھی لگا ہوا ہے اور وہ یہ کہ ہو سکتا ہے۔ایک " داعی " لفاظی یا محض باتوں ہی باتوں میں الجھ کر رہ جائے اور حقیقت سے کوسوں دور ہو جائے۔چونکہ اس کا واسطہ ہمیشہ ایسے لوگوں سے پڑتا ہے جن کے سامنے اس کا دل کھلا نہیں ہوتا بلکہ صرف زبان چلتی ہے اور وہ نہیں جانتے کہ اس کے دل میں نور ہے یا تاریکی۔بلکہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ زبان کیسی ہے اور چونکہ وہ اس کی تعریفہ ، اور نشاء اس جو فور کی وجہ سے نہیں کرتے جو اس کے دل میں ہوتا ہے بلکہ محض زبان کی وجہ سے کرتے ہیں۔جس سے انہیں کئی قسم کا 5 حاصل ہوتا ہے اس لئے آہستہ آہستہ اگر اس کا تعلق خدا تعالی سے کامل نہیں ہوتا اور اس کے دل کا نور ابھی مکمل نہیں ہو تا تو وہ اس بناء اور تعریف سے متاثر ہو کر اور زبان کی شیرینی سے مسحور ہو کر اس وسوسہ میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ یہی وہ چیز ہے جس کی مجھے ضرورت تھی۔تب اس گھڑی سے اس کے دل کا نور سمٹنے لگتا ہے۔اور سمٹتے سمٹتے اس کے قلب کے ایک گوشہ میں چھپ جاتا ہے۔اور دل کے اس میدان میں جہاں روحانیت کی جگہ ہونی چاہئے تھی۔جہاں آسمانی نور اور برکات کی جگہ ہونی چاہئے تھی۔کبر اور معجب اپنا ڈیرہ جما لیتا ہے۔پس میں اس وقت یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں۔کہ ہماری جماعت اور دوسری جماعتوں میں جو فرق ہے۔وہ یہی ہے کہ ہمیں یہ ہدایت کی گئی ہے۔اور اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ ہم لوگوں کے الفاظ کی طرف توجہ نہ رکھیں۔بلکہ ہماری توجہ ہمیشہ اللہ تعالی کی طرف ہو۔یاد رکھو! حقیقی حمد اور توصیف وہی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو کیونکہ دل کا نور ہی ہے جو انسانی قدر بڑھاتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی تعریف ہی ہے جو انسان کو اشرف مقام پر پہنچاتی ہے۔پس جہاں دعوت میں انسان کو نیکیوں کے حاصل