ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 98
وہاں ڈپٹی کمشنر صاحب کے دفتر میں ملازم ہو گئے ملازمت کے وقت سے فارغ ہو کر اپنی قیام گاہ پر تشریف لاتے تو دروازہ بند کر لیتے مکان سے باہر کم جاتے اور اس خلوت میں اپنا وقت تلاوت قرآن مجید، عبادت گزاری شب بیداری علمی مشاغل میں گزارتے کتابوں کا مطالعہ کرتے یا مذہبی مباحث میں حصہ لیتے تھے۔آپ کی پرہیز گاری اور تقویٰ کا اتنا اثر تھا کہ سب آپ کو عزت کی نظر سے دیکھتے تھے اور دینی مسائل دریافت کرتے تھے۔ملازمت سے سبکدوش ہو کر قادیان تشریف لے آئے تو کلیۂ فنافی اللہ ہونے کے لئے اپنے والد صاحب کی خدمت میں فارسی میں ایک درخواست تحریر فرمائی اس کے چند جملوں کا ترجمہ ہے: میرا دل دنیا سے سرد ہو گیا ہے اور چہرہ غم سے زرد اور اکثر حضرت شیخ سعدی شیرازی رحمہ اللہ علیہ کے یہ دو مصرع زبان پر جاری رہتے ہیں اور حسرت و افسوس کی وجہ سے آنکھوں سے آنسو بہ پڑتے ہیں۔مکن تکیه بر عمر ناپائیدار۔مباش ایمن از بازی روزگار (اپنے دل کو دنیائے دوں میں نہ لگا کیو نکہ موت کا وقت نا گہاں پہنچ جاتا ہے) میں چاہتا ہوں کہ باقی عمر گوشہ تنہائی اور کنج عزلت میں بسر کروں اور عوام اور ان کی مجالس سے علیحد گی اختیار کروں اور اللہ تعالیٰ سبحانہ کی یاد میں مصروف ہو جاؤں تا تلاقی کمافات کی صورت پیدا ہو جائے“۔فرمایا کرتے تھے ” مجھے تو اللہ تعالیٰ کی محبت نے ایسی محویت دی تھی کہ تمام دنیا سے الگ ہو بیٹھا تھا۔تمام چیزیں سوائے اُس کے مجھے ہر گز نہ بھاتی تھیں۔میں ہر گز ہر گز حجرہ سے باہر قدم رکھنا نہیں چاہتا تھا۔میں نے ایک لمحہ بھی شہرت کو پسند نہیں کیا۔میں بالکل تنہائی میں تھا اور تنہائی ہی مجھ کو بھاتی تھی۔شہرت اور جماعت کو جس نفرت سے میں دیکھتا تھا اس کو خدا ہی جانتا ہے میں تو طبعاً گمنامی کو چاہتا تھا اور یہی میری آرزو تھی خدا نے مجھ پر جبر کر کے اس سے مجھے باہر نکالا میری ہر گز مرضی نہ تھی مگر اُس نے میری خلاف مرضی کیا کیونکہ وہ ایک کام لینا چاہتا تھا۔اُس کام کے لئے اُس نے مجھے پسند کیا اور اپنے فضل سے مجھ کو اس عہدہ جلیلہ پر مامور فرمایا یہ اسی کا اپنا انتخاب اور کام ہے۔میرا اس میں کچھ دخل نہیں۔میں تو دیکھتا ہوں کہ میری طبیعت اس طرح واقع ہوئی ہے شہرت اور جماعت سے کوسوں بھاگتی ہے اور مجھے سمجھ نہیں آتا کہ لوگ کس طرح شہرت کی آرزو رکھتے ہیں۔میری طبیعت اور طرف جاتی تھی لیکن خدا مجھے اور طرف لے جاتا تھا میں نے بار بار دعائیں کیں مجھے گوشہ میں ہی رہنے دیا جائے مجھے میرے خلوت 98