ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 59
کرتے تھے اور میں کھول دیا کرتا تھا دروازہ کھلنے پر آپ ایک روٹی اور سالن کا کچھ حصہ اسے دے دیتے اور وہ وہیں بیٹھ کر کھا لیتا پھر وہ چلا جاتا اور میں دروازہ بند کر لیتا تھوڑی دیر کے بعد دوبارہ دستک ہوتی اور میں دروازے پر جاتا تو ایک اور شخص موجود ہوتا جس کا نام حسینا کشمیری تھا اس کو اندر آنے کی اجازت ملتی ایک روٹی اور سالن کا کچھ حصہ اسے دے دیتے اور وہ وہیں بیٹھ کر کھالیتا۔اس کے بعد حافظ معین الدین چلے آتے اسے بھی ایک روٹی سالن کا کچھ حصہ عنایت فرماتے اور اس طرح ساری روٹیاں دوسروں کو کھلا کر خود تھوڑا سا بچا ہوا شور با پی لیتے۔میں ہر چند اصرار کرتا مگر میری روٹی میں سے نہ کھاتے۔میرے اصرار کرنے پر بھی گھر سے اپنے لئے اور روٹی نہ منگواتے۔کبھی جب میں بہت ضد کرتا کہ اگر آپ میرے حصے میں سے نہیں کھائیں گے تو میں بھی نہیں کھاؤں گا تو تھوڑی سی کھالیتے ایسا ہی شام کو بھی ہوتا۔البتہ شام کو ایک پیسے کے چنے منگوا کر کچھ آپ چبا لیتے، کچھ مجھے دیتے۔(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مصنفہ شیخ یعقوب علی عرفانی صفحہ 982) کون چھوڑے خواب شیر میں کون چھوڑے اکل وشرب کون لے خار مغیلاں چھوڑ کر پھولوں کے بار عشق ہے جس سے ہوں طے یہ سارے جنگل پر خطر عشق ہے جو سر جھکا دے زیر تیغ آبدار روزنامه الفضل آن لائن لندن 28 جنوری 2022ء) 59