ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 404 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 404

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام ے ارحم الراحمین! جس کام کی اشاعت کے لئے تو نے مجھے مامور کیا ہے اور جس خدمت کے لئے تو نے میرے دل میں جوش ڈالا ہے اس کو اپنے ہی فضل سے انجام تک پہنچا اور اس عاجز کے ہاتھ سے حجت اسلام مخالفین پر اور ان سب پر جو اب تک اسلام کی خوبیوں سے بے خبر ہیں پوری کر۔“ تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 265 مجھ کو دے اک فوق عادت اے خدا جوش و تپش جس سے ہو جاؤں میں غم میں دیں کے اک دیوانہ وار وہ لگادے آگ میرے دل میں ملت کے لئے شعلے پہنچیں جس کے ہر دم آسماں تک بے شمار (براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 147) آپ علیہ السلام نے اپنی تمام تر توانائیاں خدمت اسلام میں صرف کر دیں۔براہین احمدیہ کی تصنیف سے اسلام ثریا سے اُتار لائے اور ہزیمت خوردہ مسلمانوں کے ہاتھوں میں تھما دیا۔قلم سے جہاد کر کے يضع الحرب کا عملی نمونہ دکھادیا۔آپ علیہ السلام کی عربی، فارسی اور اردو زبان میں نظم و نثر میں کتب، اشتہارات اور خطوط کے صفحات جمع کرکے زندگی کے دنوں پر تقسیم کریں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔یہ تھا جہاد جو اس زمانے میں فرض تھا اور یہ ہے گواہی کہ آپ علیہ السلام نے اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی اصلی ایام کا مشن پورا کرنے کے لئے کتنی سعی کی۔ان ساری تحریرات کا مقصد زنده خدا، زندہ قرآن اور زندہ رسول صلی الم سے دنیا کو روشناس کروانا تھا۔قلم سے جنگ کر کے جزیہ کا سوال ختم کر دیا۔کسر صلیب کرتے ہوئے عیسائیت کے رد میں خم ٹھونک کے میدان میں آئے ثابت کیا کہ خدا واحد ہے لا شریک ہے اور لازوال ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام میں خدائی صفات نہیں تھیں وہ ایک مقرب نبی تھے۔جو آسمان پر نہیں چڑھے قرآن اور حدیث انہیں وفات یافتہ مانتے ہیں آپ علیہ السلام نے عیسی مسیح کے صلیب سے بیچ کر ہندوستان کی طرف سفر کا نہ صرف رستہ دکھا دیا بلکہ مقبرے تک لے گئے۔ابنِ مریم مر گیا حق کی قسم داخل جنت ہوا وہ محترم مارتا ہے اُس کو فرقاں سربسر 404