ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 401
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام علم تھا کہ ایک زندگی میں، مکہ مدینہ میں رہ کر محدود وسائل اور ذرائع ابلاغ کے ساتھ زمین کے کناروں تک خدائے واحد کا پیغام پہنچانا مشکل کام ہے۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ آپ صلی ایم کی ایک اور بعثت ہو گی اور یہ کام آپ صلی یم کی آمد ثانی میں ہو گا۔جس کے لئے ایک مربوط نظام، طریق کار اور وقت مقرر ہے۔یہ بعثت بروزی اور ظلی رنگ میں ہو گی۔آپ صلی الم کا ایک عاشق صادق، آپ کی لی کام کا شاگرد، خلیفہ ، عکس، اور ظل آپ صلی ایم کے رنگ میں رنگین ہو کر آپ کی یہ کام کے مقاصد عالیہ کو پورا کرے گا۔جیسا کہ فرمایا وَ اخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعه: 4) الله سة اسی طرح سورہ نور آیت 56 میں وعدہ استخلاف کے موافق آنحضرت صلیا لیلی کام کو میل موسی قرار دیا گیا اور آپ صلی الی ظلم کے بعد خلفائے کرام کے سلسلہ کو جاری رکھنے کا وعدہ فرمایا۔ایسا سلسلہ جو حضرت موسی کے بعد خلفاء کے سلسلہ کی طرح ہو گا۔یعنی جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چودہ سو سال بعد حضرت عیسی علیہ السلام تشریف لائے اسی طرح آپ صلی الی یوم کے اتنے ہی عرصے کے بعد خلیفہ عطا کیا جائے گا۔یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔اس کے لئے درود شریف کی دعا بھی سکھائی اور تاکید فرمائی کہ اللہ اور فرشتے رسول اللہ صلی علی ظلم پر درود بھیجتے ہیں۔ایمان والو تم بھی درود پڑھو اور دعا کرو کہ جو رحمتیں اور برکتیں ابراہیم اور ال ابراہیم پر نازل کی تھیں وہی رحمتیں اور برکتیں محمد اور الِ محمد پر بھی نازل ہوں۔فرشتوں اور مومنوں کی مانگی ہوئی دعائیں قبول ہوئیں اور آنحضرت صلی علیہ وسلم کی امت میں بھی حضرت ابراہیم کی آل کی طرح اس خدمت منصبی کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے ایک امتی جو روحانیت کی رُو سے آپ صلی ایم کے وجود کا ایک ٹکڑا تھا کھڑا کر دیا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو ماموریت کے ساتھ عالمگیر اشاعت اسلام کا فریضہ سونپا اور آپ علیہ السلام سے وہی اقرار لیا جو حضرت محمد مصطفی اسی میری کام سے لیا تھا کہ اپنی تمام تر توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف رکھیں گے : قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام: 163) ترجمه از حضرت مسیح موعود علیه السلام: ”ان کو کہہ دے کہ میری نماز اور میری پرستش میں جدو جہد اور میری قربانیاں اور میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا سب خدا کے لیے اور اس کی راہ میں ہے۔وہی خدا جو تمام عالموں کا رب ہے۔“ (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 162) 401