ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 369
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام مال اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ بن جاؤں۔“ (صحیح مسلم) اللہ تعالیٰ نے اپنی بنیادی صفات میں سے پہلی دو یعنی الرحمن اور الرحیم میں بھی صفت محمد و صفت احمد کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اہل عرفان کے نزدیک اس صفت رحمانیت کی حقیقت یہ ہے کہ ہر ذی روح کو انسان ہو یا غیر انسان بغیر کسی سابقہ عمل کے محض احسان کے طور پر فیض پہنچایا جائے اور اس میں کوئی شک نہیں اور نہ کسی اختلاف کی گنجائش ہے کہ اس قسم کا خالص احسان جو مخلوق میں سے کسی کام کرنے والے کے کسی کام کا صلہ نہ ہو مومنوں کے دلوں کو ثنا، مدح اور حمد کی طرف کھینچتا ہے۔لہذا وہ خلوص قلب اور صحت نیت سے اپنے محسن کی حمد و ثنا کرتے ہیں۔اس طرح بغیر کسی وہم کے جو شک و شبہ میں ڈالے خدائے رحمان یقیناً قابل تعریف بن جاتا ہے۔پھر جب اتمام نعمت کے باعث حمد اپنے کمال کو پہنچ جائے تو وہ کامل محبت کی جاذب بن جاتی ہے اور ایسا محسن اپنے محبوں کی نظر میں بہت قابل تعریف اور محبوب بن جاتا ہے اور یہ صفت رحمانیت کا نتیجہ ہے۔پس آپ عقلمندوں کی طرح ان باتوں پر غور کیجئے۔اب اس بیان سے ہر صاحب عرفان پر واضح ہو گیا ہے کہ الرحمان بہت حمد کیا گیا ہے اور (کامل) حمد کیا گیا الرحمان ہے۔بلا شبہ ان دونوں کا نتیجہ ایک ہی ہے اور اس سچائی سے ناواقف ہی اس کا انکار کرنے والا ہے۔اعجاز المسیح، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 104) حضرت اقدس علیہ السلام الہی نور سے دیکھتے ہوئے کیسی خوبصورتی سے آپ صلی الم کے مقام و مرتبہ کو بیان فرماتے ہیں: "ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد صلی امیدیم (ہزار ہزار درود اور سلام اُس پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اُس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔اس نے خدا سے سے انتہائی درجہ : محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اُس کی جان گداز ہوئی۔اس لیے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اُس کی مرادیں اس پر 369