ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 363 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 363

کر دیا ہے۔(خطبه جمعه فرمودہ 24 / جولائی 1936ء الفضل جلد 24 مورخہ 2/اگست 1936ء صفحہ 8) اسی سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: میں دیکھتا ہوں کہ بہت سے ہیں جن میں اپنے بھائیوں کے لئے کچھ بھی ہمدردی نہیں۔اگر ایک بھائی بھو کا مر تا ہو تو دوسرا تو جہ نہیں کرتا اور اس کی خبر گیری کے لئے تیار نہیں ہوتا۔یا اگر وہ کسی اور قسم کی مشکلات میں ہے تو اتنا نہیں کرتے کہ اس کے لئے اپنے مال کا کوئی حصہ خرچ کریں۔حدیث شریف میں ہمسایہ کی خبر گیری اور اس کے ساتھ ہمدردی کا حکم آیا ہے بلکہ یہاں تک بھی ہے کہ اگر تم گوشت پکا ؤ تو شور با زیادہ کرلو تا کہ اسے بھی دے سکو۔اب کیا ہوتا ہے، اپنا ہی پیٹ پالتے ہیں لیکن اس کی کچھ پر واہ نہیں۔یہ مت سمجھو کہ ہمسایہ سے اتنا ہی مطلب ہے جو گھر کے پاس رہتا ہو۔بلکہ جو تمہارے بھائی ہیں وہ بھی ہمسایہ ہی ہیں خواہ وہ سو کوس کے فاصلے پر بھی ہوں۔“ ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 215) جب قادیان میں مینارۃ المسیح بن رہا تھا تو کچھ پڑوسیوں نے بے پردگی کے احتمال سے شکایت کردی۔ایک ڈپٹی صاحب تحقیق کے لئے آئے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے ڈپٹی کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ بڑھامل بیٹھا ہے آپ اس سے پوچھ لیں کہ بچپن سے لے کر آج تک کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ اسے فائدہ پہنچانے کا مجھے کوئی موقع ملا ہو اور میں نے فائدہ پہنچانے میں کوئی کمی کی ہو اور پھر اسی سے پوچھیں کہ کبھی ایسا ہوا ہے کہ مجھے تکلیف دینے کا اسے کوئی موقع ملا ہو تو اس نے مجھے تکلیف پہنچانے میں کوئی کسر چھوڑی ہو۔۔۔اس وقت بڑھامل نے شرم کے مارے اپنا سر نیچے اپنے زانوؤں میں دیا ہوا تھاور اس کے چہرہ کا رنگ سپید پڑ گیا تھا اور وہ ایک لفظ بھی منہ سے نہیں بول سکا۔“ (خلاصہ سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر 148) حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اپنے منظوم فارسی کلام میں اپنی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: مرا مطلوب و مقصود و تمنا خدمت خلق است ہمیں کارم ہمیں بارم ہمیں رسم ہمیں راہم یعنی میری زندگی کی سب سے بڑی تمنا اور خواہش خدمت خلق ہے۔یہی میرا کام، یہی میری ذمہ داری، 363