ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 357
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام قسط 43 امن عالم کی ضمانت پڑوسی کے حقوق سورۃ النساء کی آیت 37 کا ترجمہ ہے: اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ احسان کرو اور قریبی رشتہ داروں سے بھی اور یتیموں سے بھی اور مسکین لوگوں سے بھی اور رشتہ دار ہمسایوں سے بھی اور غیر رشتہ دار ہمسایوں سے بھی اور اپنے ہم جلیسوں سے بھی اور مسافروں سے بھی اور ان سے بھی جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوئے۔یقیناً اللہ اس کو پسند نہیں کرتا جو متکبر (اور) شیخی بگھارنے والا ہو۔“ قرآن کریم کی اس آیت میں پڑوسیوں کے لئے حسن سلوک کا ارشاد ہے: وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ (النساء: 37) اور رشتہ دار ہمسایوں اور بے تعلق ہمسایوں کے ساتھ بیٹھنے والے لوگوں (اور دوستوں ) سے محبت اور پیار کا تعلق قائم کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کی تشریح میں فرماتے ہیں: تم خدا کی پرستش کرو اور اس کے ساتھ کسی کو مت شریک ٹھہراؤ اور اپنے ماں باپ سے احسان کرو اور ان سے بھی احسان کرو جو تمہارے قرابتی ہیں (اس فقرے میں اولاد اور بھائی اور قریب اور دور کے تمام رشتہ دار آگئے اور پھر فرمایا کہ یتیموں کے ساتھ بھی احسان کرو اور مسکینوں کے ساتھ بھی اور جو ایسے ہمسایہ ہوں، جو قرابت والے بھی ہوں اور ایسے ہمسائے ہوں جو محض اجنبی ہوں اور ایسے رفیق بھی جو کسی کام میں شریک ہوں یا کسی سفر میں شریک ہوں یا نماز میں شریک ہوں یا علم دین حاصل کرنے میں شریک ہوں اور وہ لوگ جو مسافر ہیں اور وہ تمام جاندار جو تمہارے قبضہ میں ہیں سب کے ساتھ احسان شخص کو دوست نہیں رکھتا جو تکبر کرنے والا اور شیخی مارنے والا ہو، جو دوسروں پر رحم کرو۔خدا ایسے نہیں کرتا۔“ چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 208 - 209) 357