ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 342
”میں نے بتوں کے چڑھاوے کا کھانا کبھی نہیں کھایا۔“ ایک روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کی ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی الم سے کسی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! کیا آپ نے کبھی بتوں کو پوجا ہے۔آپ نے فرمایا نہیں۔پھر لو گوں نے پوچھا کیا آپ نے کبھی شراب پی ہے۔آپ نے فرمایا نہیں۔پھر فرمایا کہ میں ہمیشہ سے ان باتوں کو قابل نفرت سمجھتا رہا ہوں، لیکن اسلام سے پہلے مجھے شریعت اور ایمان کا کوئی علم نہیں تھا۔(سیرت حلبیه جلد 1 باب ما حفظه الله ) اسی زمانہ کا ایک واقعہ ہے کہ آنحضرت مصلی علیم نے ایک رات اپنے ساتھی سے کہا جو بکریاں چرانے میں آپ کا شریک تھا کہ تم میری بکریوں کا خیال رکھو تا کہ میں ذرا شہر جا کر لو گوں کی مجلس دیکھ آؤں۔ان دنوں میں دستور تھا کہ رات کے وقت لوگ کسی مکان میں جمع ہو کر کہانیاں سناتے اور شعر و غزل کا شغل کیا کرتے تھے اور بعض اوقات اسی میں ساری ساری رات گزار دیتے تھے۔آنحضرت صل الل علم بھی بچپن کے شوق میں یہ تماشہ دیکھنے گئے۔مگر اللہ تعالیٰ کو اس لغو کام میں خاتم النبیین کی شرکت پسند نہ آئی، چنانچہ ایک جگہ آپ گئے مگر راستے میں ہی نیند آگئی اور سو گئے اور صبح تک سوتے رہے۔ایک دفعہ اور آپ کو یہی خیال آیا مگر پھر بھی دست غیبی نے روک دیا۔زمانہ نبوت میں آنحضرت صلی ا یکم فرماتے تھے کہ میں نے ساری عمر میں صرف دو دفعہ اس قسم کی مجلس میں شرکت کا ارادہ کیا، مگر دونوں دفعہ روک دیا گیا۔(سیرت خاتم النبیین صفحہ 117 بحوالہ طبری) اہالیان مکہ کا آپ کو صادق، امین کہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کی سلامت روی معروف تھی۔اللہ تعالیٰ نے بچپن سے آپ کو سچ بولنے کی تربیت دی تھی۔مخالفین نے آپ کی زندگی پر کئی جھوٹے اعتراض کئے مگر وہ کوشش کے باوجود آپ کو جھوٹا نہ کہہ سکے۔آپ کی زوجہ محترمہ نے، عزیز و اقربا نے دوستوں نے حتی کہ شدید معاند جانی دشمنوں نے برملا آپ کی راست گفتاری کا اعلان کیا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم و تربیت بھی اللہ تعالیٰ نے کی۔دنیا بھر میں تلاش کر کے آنحضور صلی الم سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے کو آپ کی کامل اتباع اور پیروی کا ارشاد فرمایا۔آپ علیہ السلام کو اس غلامی پر فخر رہا: 342