ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 317
قادر و توانا خدا ان کی طرف سے جواب دیتا ہے اور ان ہی میں سے سعید روحوں کو آپ کے قدموں میں ڈال دیتا۔نبوت کا چھٹا سال تھا آپ دار ارقم میں مقیم تھے۔آپ کے حقیقی چا حمزہ ایک دن شکار سے واپس آئے تو ایک خادمہ نے ان سے کہا۔” کیا آپ نے سنا کہ ابھی ابھی ابو الحکم (یعنی ابو جہل) آپ کے بھتیجے کو سخت برا بھلا کہتا گیا ہے اور بہت گندی گندی گالیاں دی ہیں۔مگر محمد نے سامنے سے کچھ جواب نہیں دیا۔یہ سن کر حمزہ کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور خاندانی غیرت جوش زن ہوئی۔فوراً کعبہ کی طرف گئے اور پہلے طواف کیا۔طواف کرنے کے بعد اس مجلس کی طرف بڑھے جس میں ابو جہل بیٹھا تھا اور جاتے ہی بڑے زور کے ساتھ ابو جہل کے سر پر اپنی کمان ماری اور کہا۔”میں سنتا ہوں کہ تو نے محمد کو گالیاں دی ہیں۔سن! میں بھی محمد کے دین پر ہوں اور میں بھی وہی کہتا ہوں جو وہ کہتا ہے۔پس اگر تجھ میں کچھ ہمت ہے تو میرے سامنے بول۔“ (سیرت خاتم النبیین صفحہ 175) یہ گالیاں سن کر صبر کا پھل تھا کہ آپ کے چچا شرک ترک کر کے خدائے واحد کے پرستار بن گئے۔مکہ میں تبلیغ اسلام کو دس سال ہو گئے تھے۔مکہ والوں کی بے حسی سے خاطر خواہ کامیابی نظر نہیں آرہی تھی آپ نے قریبی شہر طائف کا رخ کیا۔حق کا پیغام دینے سے وہاں کے رئیس عبدیالیل نے بھی آپ کا تمسخر اڑایا نہ صرف خود بلکہ شہر کے بد بخت نے آوارہ آدمی آپ کے پیچھے لگا دیئے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شہر سے نکلے تو یہ لوگ شور کرتے ہوئے آپ کے پیچھے ہو لئے اور آپ پر پتھر برسانے شروع کئے جس سے سے آپ کا سارا بدن خون سے تر بتر ہو گیا۔برابر تین میل تک یہ لوگ آپ کے ساتھ ساتھ گالیاں دیتے اور پتھر برساتے چلے آئے۔یہ آپ کی زندگی کا شدید ترین تکلیف کا دن تھا۔مگر آپ کا رد عمل کیا تھا؟ گالیاں سن کے دعا دو۔آپ نے اللہ کے حضور یوں دعا کی: اللَّهُمَّ إِلَيْكَ اشْكُرْ ضُعْفَ قُوَّتِي وَقِلَّةَ حِيْلَتِي وَهَوَانِي عَلَى النَّاسِ اللَّهُمَّ يَا أَرْحَمَ الرَّحِمِينَ أَنْتَ رَبُّ الْمُسْتَضْعَفِينَ وَانتَ رَبِّي یعنی اے میرے ربّ! میں اپنے ضعف قوت اور قلتِ تدبیر اور لو گوں کے مقابلہ میں اپنی بے بسی کی شکایت تیرے ہی پاس کرتا ہوں۔اے میرے خدا! تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے اور کمزوروں اور بیکسوں کا تو ہی نگہبان و محافظ ہے اور تو ہی میرا پروردگار ہے۔میں تیرے ہی منہ کی روشنی میں پناہ کا خواستگار ہوتا ہوں کیونکہ تو ہی ہے جو ظلمتوں کو دور کرتا اور انسان کو دنیا و آخرت کے حسنات کا وارث بناتا ہے۔(سیرت خاتم النبیین صفحہ 204) 317